ہسپتالوں سے منسلک کوآپریٹو میڈیکل سٹور مریضوں کیلئے بے سود

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/27فروری : سرکاری چھوٹے بڑے ہسپتالوں سے منسلک کوآپریٹیو میڈیکل سٹور مریضوں کے لئے بے سود ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ بازاروں سے جس قیمت پر مریضوں کو ادویات ملتی ہے ان سٹوروں پر بھی اسی قیمت پر ادویات ملتی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں ہسپتالوں سے منسلک کوآپریٹیو میڈکل سٹور جن کے قیام کیلئے باضابطہ طور پر سرکار کی جانب سے ٹینڈر نکلتا ہے اور کچھ شرائط کے تحت خواہشمند افراد کو ہسپتالوں کے اندر یا باہر کوآپریٹو میڈیکل سٹور چلانے کی اجازت دی جاتی ہے جن میں سے ایک اہم شرط یہ بھی ہوتا ہے کہ ان سٹوروں سے مریضوں کو ادویات کی قیمتوں میں رعایت ملے گی تاکہ مریضوں کو جو دیگر دکاندار ادویات برابر قیمت پر دیتے ہیں ان کوآپریٹیو میڈیکل سٹوروں سے انہیں کچھ راحت ملے ۔ تاہم وادی کے مختلف ہسپتالوں سے منسلک کوآپریٹیو میڈیکل سٹور مالکان مریضوں کو کوئی بھی رعایت نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان میڈیکل سٹوروں کی افادیت اور اہمیت ہی ختم ہوچکی جبکہ ان کا وجود مریضوں کیلئے بے سود ثابت ہورہا ہے ۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں نے سخت برہمی اور ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ادویات کی دکانوں کے بنسبت یہ کوآپریٹو سٹور والے دس گناء زیادہ تجارت کرتے ہیں اور ان کی ایک دن کی سیل کم سے کم دو سے تین چار لاکھ روپے ہوتی ہے جبکہ دیگر ادویات کی دکانیں دن بھر محض پچاس ہزار کے قریب ہی سیل کررہے ہیں اس کے باوجود بھی کوآپریٹو والے مریضوں کو کوئی بھی رعایت نہیں دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوںنے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ضمن میں اقدامات اُٹھائیں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے