ایس آر او 202 امتیازی ہے اس میں ترمیم کی جائے: محمد یوسف تاریگامی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

جموں، 19 فروری : جموں کشمیر حکومت کی طرف سے چند برس قبل جاری کئے گئے ایس آر او 202 کو امتیازی قرار دیتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اس میں سرکاری نوکریوں کے خواہش مند ہزاروں امیدواروں اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھرتی ہوئے ملازموں کے فائدے کے لئے ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یاد رہے کہ جنرل محکمہ کی طرف سے 30 جون 2015 کو جاری ایس آر او 202 کے مطابق سرکاری محکموں میں بھرتی ہونے والے افراد کے پہلے پانچ برس ’پروبیشن‘ کے ہوں گے اس دوران وہ صرف بنیادی تنخواہ کے حقدار ہوں گے۔موصوف لیڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایس آر او امتیازی ہے اور ملازموں کو اپنے حق سے محروم رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں اس ایس آر او کی روز اول سے ہی سرکاری ملازمین اور تعلیم یافتہ نوجوان مخالفت کررہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ متذکرہ ایس آر او سے جموں کشمیر سروس سلیکشن بورڈ و دیگر ایجنسیوں کے ذریعے بھرتی ہوئے ملازمین کی سروس پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔تاریگامی نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر ثانی کرکے اس ایس آر او میں ترمیم کریں تاکہ حقدار اپنے حقوق سے محروم نہ ہوسکیں۔ یو این آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے