غیر معمولی فلو وائرس کی وجہ سے بچوں کو شدید خطرہ/ ڈاکٹر س ایسوسی ایشن

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture of DAK President Dr. Nissar ul Hassan / Tameel Irshad

سرینگر/16فروری// غیر معمولی انفلونزا بی وائرس میں اضافہ کی وجہ سے وادی کشمیر میں فلو کیسوں میں تشویشناک حدتک اضافہ ہوگیا ہے جو بچوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں برس انفلونزا Bوائرس میں جو اضافہ دیکھنے کو ملا وہ ہم نے گذشتہ 27برسوں میں نہیں دیکھا اور یہ تشویشناک بات ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ اس برس ہم نے انفلونز کا غیر معمولی اثیر دیکھا ہے جو بچوں کیلئے سخت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ کی جانب سے ارسال کردہ ایک بیان میں ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ امسال انفلنزا بی وائرس میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے جو کہ ہم نے گذشتہ 27برسوں میں نہیں دیکھا ۔ امریکن ایکیڈیم آف پیڈریٹکس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ انفلونزا Bکی وجہ سے سوائن فلو کی بنسبت بچوں کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور اس سے بچوں کی اموات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سا۔1992-93میںفلونزا نے اپنا سخت اثر دکھایا تھا جب ہم نے ہسپتالوں میں بہت سے بچوں کو کھودیا جو فلو جیسی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئے ۔انہوںنے کہا کہ 80فیصدی فلو کیسز بی وائرس کی وجہ سے ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ جن بچوں کو ویکسین دیا گیا ہے وہ اس وائرس سے متاثر نہیں ہوتے ۔ انہوں نے لوگوںپر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ صابن سے دھویاکریں اور اگر کسی کو کھانسی ہے تو کھانستے وقت ان کامنہ ڈھانپ کررکھیں.

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے