سپر سپیشلٹی ہسپتال میں آئی سی یوکی عدم دستیابی سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ: ڈاک

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture of DAK President Dr. Nissar ul Hassan / Tameel Irshad

جدید آلات سے لیس ہسپتال میں آئی سی یوغیر متحرک ہونا قابل افسوس ہے

سرینگر/: سپر سپیشلٹی ہسپتال شیریں باغ میں آئی سی یو کی خدمات نہ ہونے پر ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید سہولیات سے لیس اس ہسپتال میں آئی سی او غیر متحرک ہونا قابل افسوس ہے کیوں کہ اس کے غیر متحرک رہنے سے مریضوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپر سپیشلٹی ہسپتال شیریں باغ سرینگر میں آئی سی او یونٹ غیر متحرک ہیں اور اس کی وجہ سے ہسپتال میں نازک مریضوں اور شدید زخمی مریضوں کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔سپر سپیشلٹی ہسپتال شیریں باغ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر انتظامیہ کے زیر نگراں کام کررہا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ یہ بات غیر منطقی ہے کہ ہسپتال جدید سہولیات سے لیس ہونے کے باوجود بھی آئی سی یو یونٹ غیر فعال ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں 10بستروں والا آئی سی یو وارڈ کیلئے عمارت ہے تاہم عملہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ فعال نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی او میں مریضوں کو لائف سپورٹ فراہم کیا جاتا ہے جو مریض نازک حالت میں ہوں یا شدید زخمی ہوکر یہاں لائے جاتے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹروما مریضوں کو انٹنسیو کیر فراہم کیا جاتا ہے اگرچہ وہ زندہ رہ سکیں یا نہیں تاہم یہاں المیہ اس بات کا ہے کہ آئی سی یو بیڈوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم جنرل وارڈوں میں مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جراحی کے بعد مریضوں کو آئی سی یو میں رکھنا لازمی ہوتا ہے ۔بیان میں کہاگیا ہے کہ سٹروک یا ہاٹ اٹیک والے مریضوں کو آئی سی یو ضروری ہے لیکن یہاں پر ان کو بھی جنرل وارڈ میں ہی رکھا جاتا ہے ۔

Share This Article