ویڈیو: گرفتاریاں ، شبانہ چھاپے اور دفعہ 35Aمعاملے :مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی اور بانہال میں مکمل ہڑتال

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مفلوج ،سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ شہر سرینگر کے حساس علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ

سرینگر: شبانہ گرفتاریوں اور دفعہ 35 اے کے معاملے کو لیکر مشتر کہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کے ہیش نظر شہر خاص کے کئی علاقوں میں سخت ترین بندشوں اور کچھ حصوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ پوری وادی کشمیر اور بانہال میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔اس دوران ممکنہ احتجاج کے پیش نظر بیشتر مزاحمتی لیڈران کوگرفتار یا خانہ نظر بند کردیا گیا،جبکہ موبائیل انٹر نیٹ اسپیڈ کی رفتار بھی کم کی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں شبانہ چھاپوں کے دوران سینکڑوں افراد کی گرفتاریاں ، چھاپوں اور دفعہ 35Aکے خلاف ہو رہی مبینہ سازشوں کے معاملے کو لیکر مشتر کہ مزاحمتی قیادت کی ایک روزہ ہڑتالی کال کے پیش نظر اتوار کو وادی کشمیر اور بانہال میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی کا پہہ مکمل طور جام ہو کر رہ گیا ۔ ہڑتال کی کال کے پیش نظر شرسرینگر کے حساس علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جبکہ وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور فورسز کو کسی بھی امکانی گڑ بڑھ سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔ سرینگر کے لالچوک اور شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھاجبکہ جگہ جگہ بندشیں عائد کی گئی تھی اور لوگوں کے نقل و حمل پر پابند عائد رہی ۔مائسمہ ، گائوکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میںغیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی ۔اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیںجس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ادھرممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور گرفتار بھی کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میںدکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دریں اثنا جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خطہ بانہال کے مختلف حصوںمیں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران وہاں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔ اسی دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور افواہو ں کی روکتھام کیلئے موبائیل انٹر نیٹ کی رفتار کم کر دی گئی ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ اتوار کی صبح سے ہی موبائیل انٹر نیٹ کی رفتار کم کر دی گی اور اسکو 2Gتک ہی محدود کیا گیا تھا ۔جس کے نتیجے میں صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ۔(سی این آئی )

Share This Article