غیر مسلموں کی غربت اورمعاشی حالات کمزورہونے کی وجہ سے جرمانہ کی رقم ادا نہ کرپارہے تھے
سرینگر/16جنوری: جمعیت علمائے ہند کی جانب سے بلاتفریق مذہب و مسلک کی جانے والیعظیم کارنامیاورخدمت خلق کی ایک خوشنما سنگم ضلع جیل سہارنپورمیں آج اس وقت دیکھنیکوملاجب جمیعت علمائے ہند کیایک وفد نے حضرت مولانا سید ارشد مدنی کے حکم سے ضلع جیل کے اعلی حکام سے ملاقات کی اورجیل میں سزا کاٹ رہے 23 ایسے قیدیوں کی رہائی کا راستہ صاف کردیا کہ جنہوں نیعدالت سے اپنے جرائم کی ملنے والی سزا کی مدت تومکمل کرلی تھی۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق سہارنپورضلع جیل میں غربت اورمعاشی حالات کمزورہونے کی وجہ سے عدالت کی جانب سیعائد کردہ جرمانہ کی رقم کا انتظام نہیں کرپا رہے تھے اورصرف اپنی غربت اورمالی حالت کمزورہونے کی وجہ سے اضافی سزا کاٹ رہے تھے۔ اس دوران جیل سپرنٹنڈنٹ وریش راج شرما نے جیل میں موجود ایسے 23 قیدیوں کی فہرست ان کے جرمانہ کی تفصیلات کے ساتھ جمعیت علمائے ضلع سہارنپورکے صدرمولانا حبیب اللہ مدنی اوراسد اللہ اجمیری گنگوہ سابق وزیراترپردیش حکومت کے سپرد کی اورجرمانہ کی ادائیگی کے لئے قانونی کاروائی میں پیش رفت کی۔قابل ذکر ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی کوشش سے رہا ہونے والے قیدیوں میں غیرمسلم قیدیوں کی اکثریت ہیاورجب ان کو اس بات کی خبردی گئی کہ ان پرعائد کردہ جرمانہ کی رقم جمعیت علمائے ہند نے ادا کردی ہے اوروہ تمام افراد آج سلاخوں کی اس گھٹن بھری زندگی سے آزاد ہوکراپنیاہل وعیال میں پرسکون زندگی گزارسکیں گیتواس لمحہ ان کے چہروں پرآزادی کی خوشی قابل دید تھی۔اس موقع پرسبھی قیدی آئندہ کوئی جرم کرنے سے توبہ کرتے نظرآئے۔ آزادی کی خوشی میں کچھ قیدیوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلک بھی محسوس کی گئی۔ قید سے آزاد ہونے والے قیدیوں میں سوبھی، سندیپ، گڈو، پپو، سرفراز، مہردین، ساغرپال، اکرام، امت، منا، افضال، دلشاد، راجبیر، منٹو، رنکواورراشد وغیرہ کے نام شامل ہیں۔اس موقع پرجیل سپرنٹینڈنٹ وریش راج شرما نے مولانا سید ارشد مدنی صدرجمعیت علمائے ہند کا اپنیالفاظ میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ارشد مدنی نیہرسال کی طرح اس سال بھی سہارنپور ضلع جیل کے قیدیوں کے لئے دوبہت بڑے کام انجام دیئے ہیں، ایک تو سبھی قیدیوں میں گذستہ ہفتہ کمبل تقسیم کرائے اور دوسرا 23 قیدیوں کے جرمانہ کی رقم تقریباً دولالھ چوتیس ہزارروپئے کی ادائیگی کرائی، جس کی وجہ سے23 قیدیوں کوآج یا کل میں قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔ جیل سپرنٹینڈنٹ نے مولانا مدنی کی ان خدمات کی ستائش کی اور مستقبل کے لئے اپنی خدمات سہارنپورجیل کے اندرجاری رکھنے کی اپیل بھی کی۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ مولانا ارشد مدنی نے یہاں موجود کمزورقیدیوں کے درمیان تقریبا 600کمبل تقسیم کرائے تھے۔ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے قیدیوں کے جرمانہ کی رقم جمع کرانے کے لئے ضلع جیل پہنچے جمعیت علمائے ضلع سہارنپورکے رہا صدرمولانا حبیب اللہ مدنی سے جب رہا ہونے والے قیدیوں کے مذہب ومسلک کے تعلق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جمعیت ہمیشہ سے انسانی ہمدردی کے جذبہ اورنظریہ سے اپنی خدمات انجام دیتی چلی آرہی ہے ملک کا باشندہ خواہ ہندو ہو مسلم ہوسکھ ہویا کسی اورمذہب سے تعلق رکھنے والا ہو یہ تنظیم صرف اورصرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پراس کی مدد کرتی ہے اورآئندہ بھی اپنے اس موقف پرچلتی رہے گی۔

