بھاجپا کے سینئر لیڈر اور ترجمان الطاف ٹھاکر کی حفاظت پر مامور چار اہلکار معطل

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پچھلے تین روز سے بغیر سیکورٹی کے ہوں ۔ میری جان کو خطرات لاحق ہے ۔ بغیر کسی وجہ کے سیکورٹی چھین کر پی ایس اوز کے ہتھیار بھی پولیس اہلکار لے گئے

آئی جی کشمیر کی مداخلت کے بعد دو پی ایس اوز کو واپس تعینات کیا گیا۔ کئی افراد وادی میں بھاجپا کو مضبوط ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے /الطاف ٹھاکر

سرینگر؍06 جنوری ؍ جے کے این ایس؍ بی جے پی ترجمان سمیت دو بھاجپا لیڈروں کی حفاظت پر مامور چار پی ایس اوز کو معطل کرکے سیکورٹی ونگ کے ساتھ منسلک کیا گیا ۔ آئی جی کشمیر کی مداخلت کے بعد بھاجپا ترجمان کو دو محافظ فراہم کئے گئے۔ بی جے پی ترجمان نے الزام لگایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بات کی بخوبی علمیت ہے کہ میری جان کو خطرات لاحق ہے تاہم اس کے باوجود بھی میرے چار سیکورٹی گارڈوں کو معطل کرکے اُن سے ہتھیار بھی چھین لئے گئے ۔ ترجمان نے بتایا کہ پچھلے تین دنوں سے بغیر سیکورٹی کے ہوں جس کی وجہ سے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہاں ہوں۔بھاجپا ترجمان نے بتایا کہ ریاست کے گورنر کو اس سلسلے میں تحریری طورپر آگاہ کیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق وادی کشمیر کے دو سینئر بھاجپا لیڈروں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو اچانک معطل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان الطاف احمد ٹھاکر نے جے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ تین روز قبل نہرو پارک پولیس اسٹیشن سے وابستہ اہلکار اچانک میری سرکاری رہائش گاہ واقع ڈلگیٹ میں گھس گئے اور وہاں صندوقوں کو توڑ کر پی ایس اوز کی چار رائفلوں کو لے گئے۔ انہوں نے کہاکہ میرے محافظ کھانا کھانے کیلئے باہر گئے ہوئے تھے کہ جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاربغیر اطلاع دئے ہیں سرکاری رہائش گاہ میں گھس گئے اور سبھی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ حفاظت پر مامور چار اہلکاروں کو معطل کرکے سیکورٹی ونگ کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ الطاف ٹھاکر کے مطابق واقع 3جنوری کو پیش آیا اور پچھلے تین روز سے میں بغیر سیکورٹی کے ہوں۔ الطاف ٹھاکر نے مزید بتایا کہ چونکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے پہلے ہی بتایا ہے کہ میری جان کو شدید خطرات لاحق ہے تاہم اسکے باوجود بھی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو معطل کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر چہ جموں وکشمیر پولیس حکام کو میرے پی ایس او ز کو معطل ہی کرنا تھا تو پہلے مجھے نئی سیکورٹی فراہم کرنی چاہئے تھی ۔ا نہوں نے کہاکہ پچھلے تین روز سے بغیر سیکورٹی کے ہوں جس کی وجہ سے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہا ہے۔ الطاف ٹھاکر کا مزید کہنا تھا کہ چند عناصر وادی میں بھاجپا کو مضبوط ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی جی کشمیر کی مداخلت کے بعد اتوار سہ پہر کے بعد میرے حفاظت کیلئے دو پی ایس اوز بھیج دئے گئے ۔ الطاف ٹھاکر نے کہاکہ ریاست کے گورنر کو اس سلسلے میں تحریری طورپر آگاہ کیا ہے۔ بی جے پی ایک او رسینئر لیڈر عبدالرشید نے بتایا کہ جس طرح سے پولیس اہلکار سرکار ی رہائش گاہ میں گھس کر ہتھیار لے کر گئے اُس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ نہرو پارک پولیس نے صندوقوں کو توڑ نے کے ساتھ ساتھ اشیاء کو تہس نہس کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ جواہرنگر میں کانگریس سینئرلیڈر کی سرکاری رہائش گاہ سے جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیار لوٹنے کے بعد پولیس حکام نے واضح ہدایت کی ہے کہ جن افراد کی حفاظت کیلئے پولیس اہلکار تعینات ہے وہ بغیر اجازت کے سرکاری رہائش گاہ کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔

Share This Article