نئی دہلی میں بی ایس ایف اور فوج کے سینئر آفیسران کی میٹنگ کے دوران دراندازی پر قابو پانے کیلئے نئی حکمت عملی ترتیب
سرینگر؍06 جنوری ؍ جے کے این ایس؍ دراندازی کے واقعات کو ناکام بنانے کیلئے اگر چہ حد متارکہ اور لائن آف کنٹرول پر خصوصی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی سال 2018کے دوران 140جنگجو اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے جن میں زیادہ تر ملی ٹینٹ جیش سے وابستہ بتائے جار ہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ نئی دہلی میں فوج اور بارڈر سیکورٹی فورسز کے سینئر آفیسر کے درمیان میٹنگ ہوئی جس دوران د راندازی کے مسلسل واقعات رونما ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سخت موسمی حالات کے باوجود بھی عسکریت پسند اس طرف آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2018کے دوران 140عسکریت پسند اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اگر چہ اور بہت سارے اقدامات اُٹھائے گئے تاہم اس کے باوجود بھی ملی ٹینٹ اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ سال 2018کے دوران جیش سے وابستہ جنگجو اس طرف اانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سرحدوں کو محفوظ بنانے اور عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ نئی دہلی میں فوج اور بارڈر سیکورٹی فورسز آفیسران کے درمیان ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران سال 2018کے دوران دراندازی کے واقعات رونما ہونے پر گفت شنید ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سال 2018کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں دراندازی کے وا قعات کو ناکام بنایا گیا تاہم اس کے باوجود بھی ایک سو سے زائد ملی ٹینٹ اس طرف آنے میں کامیاب ہوئے جو تشویش کا باعث ہے۔ میٹنگ کے دوران آفیسروں کو بتایا کہ پونچھ اور سرحد ی ضلع کپواڑہ میں گھنے جنگلات کے باعث عسکریت پسند اس طرف آنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ ندی نالوں کے ذریعے بھی ملی ٹینٹ اس طرف آرہے ہیں جس پر فوری طورپر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ میٹنگ کے دوران بتایا کہ پچھلے سال کے دوران فوج اور بارڈر سیکورٹی فورسز نے دراندازی کرنے والے کئی عسکریت پسندوں کو زندہ بھی گرفتار کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک آفیسر نے بتایا کہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں اس وقت 130غیر ملکی جنگجو سرگرم ہے جو وادی کے مختلف اضلاع میں سرگرم ہے۔ مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ غیر ملکی جنگجو مقامی عسکریت پسند وں کو جدید اسلحہ کی تربیت دے رہے ہیں جبکہ انہیں فدائین کی بھی ٹریننگ دی جارہی ہے جو تشویشناک ہے۔ وزارت داخلہ کے آفیسر نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں ایک سو مقامی عسکریت پسند بھی سرگرم ہے جبکہ سال 2018کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 104مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر فورسز کیلئے سردرد بنا ہوا ہے کیونکہ وہاں پر مقامی تعلیم یافتہ نوجوان کو عسکریت کی اور مائل کرنے کیلئے کئی افراد سرگرم ہیں ۔

