کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے 70 سال پورے: ۔میرواعظ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

اقوام متحدہ اس دیرینہ تنازع کے حل کیلئے کوئی ٹھوس اور مثبت قدم نہیں اٹھایا ہ

سرینگر5جنوری: حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فارو ق نے 5 جنوری کی مناسبت سے کہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اب پورے 70 سال ہو چکا ہے تاہم دنیا کے اس سب سے بڑا ادارہ اقوام متحدہ نے اس دیرینہ تنازع کے حل کیلئے کوئی ٹھوس اور مثبت قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد ہی دنیا بھر کے تنازعات کو حق و انصاف کی بنیاد پر حل کرانا ہے تاہم یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ یہ ادارہ خود اپنی ہی قراردادوں پر عمل آوری سے اب تک قاصر رہا ہے جو بیحد افسوسناک ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت کے حصول کیلئے گزشتہ سات دہائیوں سے بے مثال جانی و مالی قربانیاں پیش کررہے ہیں اور ہمارے حق و انصاف پر مبنی آواز اور پر امن جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے کیلئے حکومت ہند وہ تمام حربے استعمال کررہی ہے جو کچھ اُس کے بس اور حد اختیار میں ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اُس کے تاریخی پس منظر میں حق خودارادیت کی بنیاد پر یا پھر سہ فریقی مذاکرات سے حل نہیں کیا جاتا خطے میں سیاسی غیر یقینیت اور بے چینی کا ماحول قائم رہے گا۔حریت چیرمین نے تیزی سے بدلتے بین الاقوامی سیاسی حالات کے تناظر میں اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے اور خطہ کشمیر میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو قتل و غارتگری ، مار دھاڑ اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے اُسے رکوانے کیلئے حکومت ہند پر دباؤ ڈالے ۔ میرواعظ نے او آئی سی کے ایک اہم رُکن ملک ترکی جواو آئی سی میں کشمیر رابطہ گروپ کا بنیادی رکن بھی ہے کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کئے جانے اور اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے مظلوم کشمیریوں کی حمایت پر زور دیئے جانے اور اِس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے مظلوم کشمیریوں کی حمایت پر ترکی کے صدر جناب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کی سنگینی اور حساسیت کی وجہ سے اب آئے روز اس کے حل پر زور دیا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت ہند اپنی روایتی پالیسیوں اور ہٹ دھرمی کے سبب تلخ حقائق سے آنکھیں چرار رہی ہے۔ میرواعظ نے آری پل ترال کی معرکہ آرائی کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے دو عسکریت پسندوں شہید حمادخان اور اسکے دوسرے ساتھی کی شہادت پر انہیں زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ہند کی کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کی جارحانہ پالیسیوں کے سبب ہمارے نوجوان اپنے بلند نصب العین کے حصول کیلئے آئے روز اپنی قیمتی جانیں نچھاور کرکے رواں جدوجہدکی آبیاری میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہیدوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور حصول مقصد تک قیادت اور عوامی سطح پر یکسوئی اور استقامت کا مظاہرہ نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ رواں جدوجہد اور تحریک کی کامیابی کا تقاضا ہے ۔میرواعظ نے 6 جنوری1993 کو مشتعل بھارتی فورسز کے ہاتھوں سوپور میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 53 نہتے شہریوں کو موقعہ پر بے دردی سے شہید کئے جانے کی برسی کے موقعہ پر اُن شہداء کو زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی کہ ہزاروں شہیدوں کے خون سے مزین تحریک حق خودارادیت کو پائے تکمیل تک لیجانے کیلئے قیادت اور قوم عہد بند ہیں ۔
میرواعظ نے بمنہ سرینگر میں ایک ہی کنبے کے دو معصوم بچوں سمیت پانچ افراد کی حادثاتی ہلاکت پرشدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اس المناک سانحہ پر اللہ تبارک و تعالیٰ سے صبر جمیل کی دعا کی ۔

Share This Article