بجلی ، پانی مکمل طور پر درہم برہم، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث لوگ مصائب سے دوچار
سرینگر/05جنوری: وادی کشمیر طول ارض میں ہوئی شدید برفباری کے باعث جہاں وادی کا ملک کی دوسری ریاستوں سے ہوائی اور زمینی رابط منقطع ہو گیا وہیں بجلی ، پانی اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر درہم برہم بجلی کی عدم دستیابی کے باعث سرکاری اسپتالوںمیں کام کاج بری طرح سے ٹھپ ۔ سرکاری دفتروںمیں حاضری برائے نام ، سڑکیں سنسان بازار ویران انتظامیہ غیر متحرک لوگ مصائب ومشکلات سے دوچار ، راشن گھاٹ خالی ، رسوئی گیس مٹی کے تیل کی شدید قلت منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی عروج پر ہے۔۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر برفباری جہاں وادی کشمیر ملک کی دوسری ریاستوں سے منقطع ہوکر رہ گئی ہے وہیں شد ید برفباری کی وجہ سے بجلی ، پانی کا نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ وادی کشمیر میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں زیر آب آگئی ہیں شہر سرینگر اور دوسرے قصبوںمیں عبور ومرور ناممکن ہو کر رہ گیا ہے تمام شاہرائیں جھیلوں کا نظارہ پیش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے باہرنکلنا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔ کئی علاقے جن میں بمنہ بوٹ کالونی ، بٹہ مالو ، قمر واری ، لالچوک ، ڈلگیٹ ، سونہ وار ، مہجور نگر ، باغ مہتاب ، چھانہ پورہ، نٹی پورہ ، حیدر پورہ ، شہر خاص کے نور باغ ، قمر واری ، نوا بازار ، کاوڈارہ ، عید گاہ ، راجوری کدل ، گوجوارہ ، ڈلگیٹ ، رعناواری ، ناو پورہ ، لالبازاراور اس کے ملحقہ علاقوں میں ڈرنیج سسٹم ناقص ہونے کے باعث نا صاف پانی رہائشی مکانوںمیں بنیادوں میں گھس گیا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں مکان اور ان میں رہنے والے مکینوں کو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دوسرے محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوناپڑرہا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی نے شہر سرینگر اور دوسرے علاقوںمیں سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے اور محکمہ پی ڈی ڈی کے ایک سینئر آفیسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترسیلی لائنوں اور بجلی کے کھمبوں کے اکھڑ جانے کے باعث پی ڈ ی ڈی محکمہ کو برقی رو بحال کرنے میں کچھ اور وقت درکار ہوگا ۔ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث وادی کے درجنوں علاقوںمیں پینے کے پانی کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو نا صاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوناپڑرہا ہے۔ محکمہ ہیلتھ نے پوری وادی میں تعینات سرکاری اسپتالوں کے ملازمین کو تلقین کی ہے کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسپتالوںمیں حاضر رہے تاہم سرکاری اسپتالوںمیں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کام کاج بری طرح سے متاثر ہوا ہے بیماروں کے ٹیسٹ اوپریشن نہیں ہو پا رہے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں بیمار اور ان کے تیمار دار اسپتالوںمیں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ برفباری کے باعث وادی کے دوردراز شہری اور دوسرے قصبوںمیں غذائی اجناس کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ راشن گھاٹ خالی پڑے ہوئے ہیں صارفین کو رسوئی گیس دستیاب نہیں ہو پا رہا ہے ، کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ، منافع خوروں کی کاروائیاں عروج پرپہنچ گئی ہیں ، چیکنگ اسکارڈوں کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دے رہا ہے اور پوری وادی میں صورتحال انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے ۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کوئی کاروائی عمل میں نہیں لارہی ہے ، کاغذی بیانات داغ کر عوام کو یقین دلانے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مزید نازک ہوتیجا رہی ہے۔
