برف ہٹانے کے عمل کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ : ماہرصحت ڈاکٹر نثارالحسن

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture of DAK President Dr. Nissar ul Hassan / Tameel Irshad

سڑکوں ، گلی کوچوں اور صحنوں سے برف ہٹانا بھاری پڑ سکتا ہے

سرینگر/02جنوری: سڑکوں ، صحنو ں اور گلی کوچوں سے بیلچوں سے برف ہٹانے کا عمل خطرناک قراردیتے ہئے ماہرین صحت نے کہا کہ اس طرح کے عمل سے دل کا درہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ وادی کے مختلف جگہوں پر تازہ برفباری اور اگلے چند روز میں سرینگر سمیت دیگر جگہوں پر برف ہونے کی پیشن گوئی ہونے کے ساتھ ہی ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے برف ہٹانے کو خطروں سے پُر قراردیا ہے ۔ ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا ہے کہ سڑکوں ، گلی کوچوں اور ہمارے صحنوں میں جو برف جمع ہوتی ہے اس کو ہٹانے کے دوران انسان کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے ۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ2017میں کنیڈا میں ہوئے ایک سروے رپورٹ سے پتہ چلاہے کہ بیلچوں سے سڑکوں ، مکانوں کی چھتوں، صحنوں اور گلی کوچوں سے برف ہٹانے کے عمل کے دوران دل کے دورہ پڑنے کا شرح فیصدی 34ہے جبکہ ہاٹ اٹیک کی وجہ سے اس دوران ہونے والی اموات کی شرح فیصدی 16فیصدی بتائی گئی ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کے مطابق برف ہٹانے سے خون کا بہائو بڑھ جانے سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ موسم سرد رہنے کے نتیجے میں انسان کا جسم بھی سرد ہوتا ہے اور جب جسم کو اچانک خون کا دبائو بڑھ جاتا ہے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اس سے دل کا دورہ پڑنے کا احتمال بڑھ جاتا ہے ۔ انہوں نے دل کے مرض میں مبتلاء افراد اور ہائپر ٹنشن مریضوں کو صلاح دی ہے کہ وہ بیلچوں سے برف نہ ہٹائیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں سے تاکید کی ہے کہ اپنے گھروں سے باہر نکلتے وقت گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں دستانے، پائوں میں موزے اور اپنے منہ کو گلوبند سے ڈھانپ لیں ۔

Share This Article