پاکستان بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں
سرینگر/28دسمبر: پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ ائیرپورٹ سے نئی ائیرلائن چلانے کی منظوری دے دی اس موقعے پرانہوںنے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرکے تجارت کو بڑھانے کی متمنی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ ائیرپورٹ سے نئی ائیرلائن چلانے کی منظوری دے دی۔یہ فیصلہ پاکستانی ائیر لائن کے چئیرمین فضل جیلانی اور معاون برائے یوتھ افئیرز عثمان ڈار کی پاک وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ہوا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا یے کہ وفاقی وزیر برائے سول ایو ایشن میاں محمد سومرو بھی ملاقات میں موجود تھے۔سیال ائیر لائن سیالکوٹ کی تاجر برادری کے تعاون سے شروع ہو گی۔تاجر برادری نے ائیر لائن سروس کے آغاز میں حکومتی معاونت فراہم کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کا تاجر ائیر لائن سروس کا آغاز خوش آئند ہے،ائیر لائن کے آغاز سے خطے میں روزگار اور کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔انہوں نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور تجارتی مراسم بڑھانے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی حکومت بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہاں ہے تاکہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی مراسم قائم کرکے ترقی کی نئی منزلوں کو چھو سکے۔ پاک وزیراعظم عمران خان مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ سرمایہ کاری کا اہم مرکز بن رہا ہے اور حکومت مزید سہولتیں فراہم کرے گی۔خیال رہے پچھلے ماہ وفاقی حکومت نے لبرٹی ایئر نامی نئی نجی ایئر لائن کو لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی تھی۔نجی ایئرلائن کو لائسنس جاری کرنے کی منظوری پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے دی تھی۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی ائیر لائن کے مالک میاں محمد عامر محمود ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ لبرٹی ائیرلائن ایک بہتر فضائی کمپنی ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت مزید 3 نجی فضائی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سیرینے ائیر، ائیر بلیو اور شاہین ائیرلائن شامل ہیں۔یاد رہے کہ پاکستانی انصاف پارٹی کی جیت کے بعد جب سے پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی تب سے پاکستانی حکومت نے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کئی بار بھارت کو مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی پیش کش کی ہے تاہم بھارت نے ہر بار پاکستانی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے پاکستان بھارت مخالف سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور جب تک نہ پاکستان ایسی سرگرمیوں کو بند نہیں کرے گا پاکستان کے ساتھ مذاکرات بحال نہیں کئے جائیں گے ۔

