کرگل جنگ کے بعد فوج نے فضائی طاقت کا مطالبہ کیا جس کو ہم نے پورا کیا
سرینگر/16دسمبر: وزیر اعظم دامودر نریندر مودی نے کانگریس پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ کرگل جنگ کے بعد بھارتی فوج نے فضائی طاقت کی ضرورت محسوس ہوئی جس کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے پورا کیا ہے ۔جبکہ کشمیر میں الاگائو وادیوں کو کانگریس کی سرکار میں بڑھاوا ملا اور ہم نے ان کی نکیل کس لی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس کو صرف نکتہ چینی کرنی آتی ہے سابق فوجیوں کیلئے کانگریس نے آج تک کچھ نہیں کیا صرف ون رینک ون پنشن کے نعروں سے جوانوں کا دل بہلایا تاہم ہماری سرکار نے فوجیوں کے وہ ائریرس بھی واگذار کئے جو کانگریس نے لگاتار 10برس تک حکومت میں رہ کر بھی نہیں کیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ رافیل سودے پر کانگریس کا واویلا محض ڈول بجائو ہی ثابت ہوا ۔ انہوںنے کہا کہ رافیل ڈھیل کے معاملے میں ہماری سرکار کے خلاف جو پروپگنڈا کیا گیا اُس کی ہوا سپریم کورٹ نے نکالی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کرگل جنگ کے بعد فوج نے فضائی طاقت بڑھانے کی ضرورت کو سرکار کے سامنے رکھا تھا اور اٹل جی کی سرکار نے فوج کی اس مانگ کو پورا کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے تاہم کانگریس کی سرکار جب بنی تو اس نے اس معاملے کو کھٹائی میں ڈال دیا اسی لئے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ایک بار پھر قائم ہوئی تو ہم نے فوج کو جنگی طیاروں سے لیس کرنے کا عہد کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے فوجی جوانوں اور ریٹائرڈ فوجیوں کیلئے آج تک کچھ بھی نہیں کیا صرف ونک رینک ون پنشن کے کھوکھلے نعرے بلند کرتی رہی تاہم ہماری سرکار نے سابق فوجیوں کے حق میں تمام ائرس واگذار کئے ۔ وزیر اعظم نے خطا ب میں کہا کہ کاشمیر میں کانگریس نے الگائو وادیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں ۔لیکن ہم نے علیٰحدگی پسندی کو ختم کرکے الگائو وادیوں کی نکیل کس لی ۔ نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو صرف نکتہ چینی کی سیاست کرنی آتی ہے اور ہمارے کاموں سے ناخوش ہوکر وہ جنتا کو بہکانے کا کام کررہی ہے ۔ وزیر اعظم نے ایک بڑے مجمعہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں کہا کہ دوستو آپ کو معلوم ہے کہ کانگریس جھوٹ کی سیاست کررہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دوستو ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم نے ایک ’انکل کو بیرون ملک سے ‘واپس لاکر جیل بھیج دیا جس کو چھڑانے کیلئے کانگریس نے اپنا وکیل بھیج دیا ۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس دیش کو کانگریس کی ضرورت نہیں ہے بھاجپا ہی وہ ایک جماعت ہے جس نے گذشتہ چار برسوں سے دیش کو ترقی کے کئی منازل پر پہنچایاہے۔

