فورسز کو بے تحاشا استعمال سے گریز کرنا چاہئے ،امن لوٹ آنے کی کوششوں میں سرعت لانے کی ضرورت: فاروق عبداللہ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پلوامہ میں نہتے شہریوں کی ہلاکتوں پر ہم پوری ریاست کے لوگ ماتم کدہ

سرینگر/16دسمبر: واد ی میں جاری خونینی واقعات بے گناہ اور عام شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں پر گہرے رنج والم صدمہ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ( ایم پی ) ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکزی قیادت کو فلفور یہ سلسلہ بند کرنے کے لئے ہرسطح پر جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا چاہئے جس کے لئے ہم نے بار بار موجودہ مرکزی قیادت آگاہ کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی بھی ٹھوس پالیسی یا کوئی موثر اقدام نہ اُٹھایا گیا اور نہ ہی ریاست میں امن لوٹ آنے کی کوششوں میں سرعت لانے یا آگے بڑھانے بھی نفی بھر کاروائی نہ کی گئی ۔ جو قابل تشویش اور مرکزی سرکار کے لئے ایک لمحہ فکریہ ڈاکٹر عبداللہ نے پلوامہ میں کل کے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر انتہائی رنج والم اور صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکتوں سے انسانیت شرم سار ہوئی ہے اور بدقسمتی سے سنگ دل فورسز نے عام شہریوں بے درلیخ گولیاں برسا کر ان کی قیمتی جانوں سے محروم کر دیا جس کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں اور اس کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کرتے ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میںہرروز خونی واقعات اور عام شہریوں ہلاکتیں معمول بن گیا ہے جو ملک کی جمہوری اور آئینی اصولوں کے لئے سم قاتل بن سکتا ہے اور ہم مرکزی سرکار کو اپیل کرتے ہے کہ وہ فورسز کو بے تحاشا طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کرے اور عام شہریوں کی مال وجان کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے انہوں نے کہا افسوس اس بات کا ہے کہ کشمیر کو ٹھیٹر آف ڈیٹھ (Threatre of death) میں تبدیل ہو گیا ہے جو کسی بھی صورت میں اہل کشمیر کو قابل قبول نہیں ہے اہل کشمیر ہمیشہ امن پسند رہے ہے اور عدم تشدد کے حامی جب کہ تشدد کے خلاف کشمیر عوام بشمول جموں لداخ کے لوگ صدیوں سے بھائی چارہ اور پُر امن فضا میں زندگی بسر کرتے آئے ہیں اور ہم نے مذہبی بھائی چارہ ، مذہبی ہم آہنگی کے اصولوی کی ہمیشہ آبیاری کی ہے ۔ وادی کشمیر امن کے گہوارے کے ساتھ ساتھ صوفیوں ، بزرگان دین ، منیوں ، بگھتوں ، ریشیوںکی درتی رہی ہے جنہوں نے امن بھائی چارہ کی تعلیم دی ہے جس پر ہر لوگ قائم ودائم ہے لیکن بدقسمتی سے مرکز میں فرقہ پرستوں کی حکمرانی آئی تب سے ہندوستان کے سیکولر کردار کومسخ کیا جارہا ہے لوگوں کو زبان مذہب اور علاقائی طور پر تقسیم کیا جارہا ہے جو ملک کی سالمیت اور آزادی کے لئے خطرہ ثابت ہوگا۔

Share This Article