سعودی عرب نے نہر کھود کر قطر کو جزیرہ بنانے کے منصوبے کی تصدیق کر دی

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ایک سعودی عہدے دار نے ان خبروں کی تصدیق کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب قطر کے گرد ایک نہر کھود کر اسے جزیرہ بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سینیئر مشیر سعود القحطاتی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا: ‘میں بےچینی سے جزیرہ سلوا کے منصوبے کی تکمیل کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہوں۔ ایک عظیم، تاریخی منصوبہ جس سے خطے کا جغرافیہ بدل جائے گا۔’

قطر نے ابھی تک اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔اس منصوبے کا مقصد قطر کو سعودی سرزمین سے الگ کر دینا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ 14 ماہ سے جاری تنازعے کا حصہ ہے۔

سعودی عرب، عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی امداد کرتا ہے اور سعودی عرب کے دشمن ایران کے قریب ہے۔

قطر ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ اور کویت کی جانب سے سعودی عرب اور قطر کے درمیان ثالثی کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

اپریل میں سعودی عرب کے خبررساں ادارے سبق نے پہلی بار خبر دی تھی کہ سعودی عرب قطر کے ساتھ سرحد پر 60 کلومیٹر طویل اور 200 میٹر چوڑی نہر کھودنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اس منصوبے پر 75 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور اس کے ایک حصے میں ایٹمی فضلہ رکھنے کا گودام قائم کیا جائے گا۔

جون میں مکہ اخبار نے خبر دی تھی کہ نہریں کھودنے میں مہارت رکھنے والی پانچ کمپنیوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے منصوبے اور لاگت کا تخمینہ پیش کریں، جب کہ فاتح کمپنی کا اعلان ستمبر میں کیا جائے گا۔

تنازع اٹھ کھڑا ہونے کے بعد قطر کی سرحد بند کر دی گئی تھی، اس کی سرکاری ہوائی کمپنی قطر ایئر لائنز کو سعودی عرب کی فضا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جب کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے قطر کے شہریوں کو اپنے ملکوں سے نکال باہر کر دیا تھا۔

Share This Article