سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نوجوانوں کے احساسات مجروح کئے

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نوکریوں کی فراہمی میں باصلاحیت اور حقداروں کے حقوق پر شب خون مارا گیا/نیشنل کانفرنس

سرینگر/21جولائی: مایوس اور نااُمید ہوئے نوجوانوں کیساتھ بات کرنے اور ان کا غصہ کم کرنے کیلئے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ نئی پود کو ساتھ لیکر چلنے سے ہی امن و امان اور تعمیر و ترقی ممکن ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج یوتھ نیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر صدرِ صوبہ یوتھ سلمان علی ساگر بھی موجود تھے۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا مخلوط حکومت نے نوجوانوں انتہائی مایوس کیا۔ قلم دوات جماعت والوں نے یہاں کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں سے اس بات پر ووٹ مانگے کہ وہ بھاجپا کو لکھن پورہ سے آگے آنے نہیں دیں گے، لیکن بعد میں پی ڈی پی نے نہ صرف اپنے ضمیر کا بھیچ ڈالا بلکہ ریاست کی انفرادیت، شناخت، خصوصی پوزیشن اور عوامی منڈیٹ کا سودا کر ڈالا۔ بھاجپا کو لکھن پورہ سے باہر رکھنے کے وعدوں پر اقتدار حاصل کرنے والی پی ڈی پی نے بی جے پی کو پوری ریاست میں پلیٹ فارم بنا کر دے ڈالا۔ قلم دوات جماعت کے ساڑے 3سالہ دورِ حکومت میں نفسا، جی ایس ٹی اور سرفیسی ایکٹ کے علاوہ کئی متعدد مرکزی قوانین لاگو کرکے دفعہ370کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پی ڈی پی نے ایک طرف اقتدار کی خاطر سودا بازی کی تو دوسری جانب ’ہیلنگ ٹچ‘ کی آڑ میں ’کلنگ ٹچ‘ کی پالیسی اختیار کی اور نوجوانوں کی نسل کشی کی۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ نوجوان میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے کا رجحان ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھ گیا ہے لیکن پی ڈی پی حکومت نے کبھی بھی اس رجحان پر بریک لگانے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔اس کے علاوہ اقربا پروری اور اقربا نوازی کے ذریعے مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ پی ڈی پی والوں نے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دھاندلیوں کے تمام ریکارڈ مات گئے ۔اس موقعے پر بٹہ مالو کے شیخ محسن نے اپنے درجنوں ساتھیوں کے ساتھ یوتھ نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے والوں کا گرم جوشی سے استقبال کیاگیا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے