ہاتھ – پیر کے بال شیو یا ویکس کرنے پر دار العلوم دیوبند کا تازہ فتویٰ جاری

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ہاتھ – پیر کے بال شیو یا ویکس کرنے پر دار العلوم دیوبند کا تازہ فتویٰ جاری

دیوبند واقع معروف اسلامی دانشگاہ دار العلوم نے ایک تازہ فتویٰ جاری کیا ہے۔ اس فتویٰ میں ویکسنگ اور شیونگ کے ذریعہ جسم کے بال ہٹانے کو ادب اور تہذیب وثقافت کے خلاف بتایا گیا ہے۔ اسے شریعہ قانون کے تحت صحیح نہیں بتایا گیا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا میں شائع خبر کے مطابق، عبدالعزیز نام کے ایک مقامی شخص نے پوچھا تھا کہ ایک آدمی یا عورت کا ہاتھ پیروں کے بال شیو یا ویکس کرنا صحیح ہے یا نہیں۔

اس پر دارالعلوم کے دارالافتا نے جواب دیا کہ بغلوں، مونچھوں اور ناف کے نیچے کے حصوں کے بال ہٹانے کے علاوہ جسم کے نیچے کے بال ویکس یا شیو کرنا شریعہ میں صحیح نہیں مانا گیا ہے۔ یہ خلاف ادب ہے۔ اس فتویٰ پر دیوبند کے مولانا سلیم اشرف قاسمی نے کہا ہے کہ شریعت کے مطابق یہ فتوی بالکل صحیح ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دارالعلوم نے اس کو خلاف ادب یعنی تہذیب کے خلاف بتایا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے