مرکزی وزیر گریراج سنگھ نے شرعیہ کورٹ کے نام پر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے صدر راہل گاندھی پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی بابا امبیڈ کر کی بات کرتے ہیں اور مہاتما گاندھی کا نام لیتے نہیں تھکتے ہیں، لیکن امبیڈکر اور گاندھی نے کبھی نہیں کہا کہ ملک کو بانٹنے کے لیے شرعیہ کورٹ کا قیام کیا جانا چاہیے۔
یہ سب گذشتہ دنوں ان سے ملاقات ملاقات کرنے والے دانشوروں( مسلم وفد) کے ذہن کی پیداوار ہے۔
انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور کی ‘ہندو پاکستان’ والے بیان کو بھی ملک توڑنے والا بیان قرار دیا۔
انہوں نے کانگریس کے ایک رہنما پر بھارتی ریاست کیرالہ جا کر بیف پارٹی کا اہتمام کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
خیال رہے کہ شرعیہ کورٹ کے معا ملے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف میں تھوڑی نرمی آئی ہے لیکن بورڈ ابھی بھی شرعیہ کورٹ کے قیام کے فیصلے پر قائم ہے۔
آل انڈ یا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینیئر رکن ظفریاب جیلانی نے کہا کہ ‘ہم نے کبھی بھی ملک کے تمام اضلاع میں شرعیہ کورٹ کھولنے کی بات نہیں کہی۔ بلکہ ہم صرف وہاں موجود شرعیہ کورٹ کھولنا چاہتے ہیں جہاں اس کی ضرورت ہے اور جہاں لوگ چاہتے ہیں کہ اس طرح کی شرعی عدالتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرعیہ کورٹ کے نام پر بی جے پی اور آر ایس ایس سیاست کر رہی ہے’۔
خیال رہے کے گزشتہ ماہ ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک کے متعدد اضلاع میں شرعیہ کورٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا تاکہ مسلمانوں کے گھریلو اور خانگی تنازعات شریعت کی روشنی میں حل کیے جا سکیں۔ اور عدالت کے بوجھ کو کم کرتے ہوئے اپنے مسائل اپنوں کے درمیان ہی حل کر لیے جائیں

