اس ناکام فوجی بغاوت کے خلاف ترکی عوام سڑکوں پر اتر آئے تھے۔دو برس قبل آج ہی کے دن ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش ہوئی تھی، جس سے جمہوریت پر آمریت کے سیاہ بادل منڈلانے لگے تھے۔
سنہ 2016 میں 15 جولائی کی شام اور 16 جولائی کی رات میں ترک فوج کے ایک حصے نے جمہو ری حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی تھی۔اس ناکام فوجی بغاوت میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزارہا زخمی ہوئے تھے۔
ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے آج دو سال مکمل ہوئے ہیں۔
اس موقعے پر مختلف تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، صدر رجب طیب اردگان نے ملکی دارالحکومت انقرہ میں منعقد قرآن خوانی کی تقریب میں شرکت کی۔
اطلاعات کے مطابق ترکی کے مذہبی امور کے نگراں علی ارباس نے ایک خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور اور فوجی بغاوت کی ناکام کوششوں کے دوران ہلاک ہونے والے 250 افراد اور زخمی ہونے والے 2000 سے زائد افراد کے لیے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگ تھے، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ملکی دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والے غداروں کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔
خیال رہے کہ 15 جولائی 2016 میں ترک فوج کی چند یونٹ نے موجودہ صدر کا تختہ پلٹنے کے لیے ٹینکوں، لڑاکوں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد استنبول، انقرہ اور مرماریس میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ صدر رجب طیب اردگان جو اس وقت تعطیل پر مرماریس میں تھے؛ وہ حملوں میں بال بال بچے تھے۔
باغی فوجیوں نے ملکی پارلیمان سمیت کئی اہم مقامات پر بمباری بھی کی تھی۔ ترکی حکومت اس ناکام فوجی بغاوت کا الزام امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ترک مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کرتی ہے، جب کہ فتح اللہ گولن اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
ایک عشائیہ تقریب میں شرکت کے دوران ترکی صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ‘متاثرین کی قربانی کو نہیں بلایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں اس اہم تاریخ اور اس روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں پـڑھایا جائے۔
واضح رہے کہ اس ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے شبے میں اب تک تقریبا 75 ہزار افراد کو گرفتار اور 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ ان میں عدلیہ، پولیس، فوج اور تعلیم سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
رجب طیب اردگان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کے بہانے اس نے اپنے تمام سیاسی مخالفیں کے خلاف کاروائی کی۔

