مودی کے ذریعہ کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی بتانے پر کانگریس چراغ پا

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کانگریس نے وزیراعظم مودی کے اس بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے۔

کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان سے محض ان کی بیمار ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔

واضح رہے کہ مودی نے ہفتہ کے روز اعظم گڑھ میں اپنے خطاب کے دوران کانگریس پر تین طلاق کے موضوع پر پارٹی کے موقف پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور سوال کیا تھا کہ کیا کانگریس صرف مسلمانوں کی پارٹی ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے کہا،” وزیراعظم نے ہمیشہ اپنے منصب کی شبیہ کو ٹھیس پہنچایا ہے۔انہوں نے جو کہا ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے ان کی بیمار ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔

شرما نے کہا، ” ان کی جانب سے معاشرے کو تقسیم کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس نے تحریک آزادی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اسے مسلمانوں کی پارٹی کہنا وزیر اعظم کی زبان سے اچھا نہیں لگتا”۔

انہوں نے کہا، ”ان کی بیمار ذہنیت قومی سطح پر فکرمندی کی بات ہے۔ وزیر اعظم نے ایسا بیان دیا ہے جو تاریخی اعتبار سے سراسر غلط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی صرف بی جے پی کے وزیر اعظم نہیں ہیں بلکہ پورے بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا تاریخ پر مطالعہ کمزور ہے اور وہ تاریخ خود لکھتے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ مودی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مہاتما گاندھی، جوہرلال نہرو، سردار پٹیل، لالا لاجپت رائے اور مولانا آزاد جیسے عظیم سیاسی رہنما کانگیرس کے صدر رہ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا،” بہتر ہوگا کہ اگر وہ کانگریس کے صدور کی ایک فہرست اپنے دفتر میں رکھیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد غلط بیان دینے کی ان کی عادت ختم ہو جائے۔ ”انہوں نے کہا کہ کانگریس ”تمام بھارتیوں کی پارٹی ہے اور وہ ملک کی مختلف تہذیبوں اور کلچرز کی قدر کرتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ کانگریس تین طلاق کے خلاف تھی اور وزیر اعظم کو یہ جاننا چاہئے کہ کچھ ضوابط اور قوانین ہوتے ہیں جس پر پارلیمان میں عمل کرنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی نے تین طلاق کے عنوان پر کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب مخالف جماعت خواتین، خاص طور پر مسلم خواتین کی زندگی کو محفوظ کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ تین طلاق بل لوک سبھا میں پاس ہو چکا ہے لیکن راجیہ سبھا میں زیر التوا ہےکیوں کہ حزب مخالف پارٹی کانگریس کو اس سے اختلاف ہے۔

Share This Article