26دنوں سے نافذگورنرراج میں سرکاری مشینری سریع الحرکت

ریاستی انتظامیہ کی اوئورہالنگ
12آئی اے ایس افسروں سمیت73حکام کے تبادلے وتقرریاں
زیرالتواء پڑی کئی فائلوں کانپٹارا،بھرتی کاعمل پھرشروع،کئی لسٹ جاری

سری نگر:١٥،جولائی:کے این این/ عام تاثریہی ہے کہ گورنرراج میں نہ صرف یہ کہ انتظامیہ کے اخراجات میں بھاری کمی آجاتی ہے بلکہ انتظامی اورمحکمانہ سطح پرسیاسی مداخلت ،دخل اندازی اورسفارش وغیرہ پربھی روک لگ جاتی ہے ۔کے این این کے مطابق عوامی حلقوں میںیہ تاثربھی پایاجاتاہے کہ گورنرراج کے دوران انتظامیہ میں غیرجانبدارانہ بنیادوں پرتبادلے اورتقرریاں عمل میں لائی جاتی ہیں جبکہ سیاسی حکومت کے دورمیں ہوتااسکے بالکل برعکس ہے کیونکہ ہرکام میں سیاسی مفادات یاطرفداری کاعمل دخل رہتاہے ۔موجودہ گورنرراج کے تین ہفتوں کی کارکردگی اوراس دوران لئے گئے فیصلوں کاسرسری جائزہ لیاجائے تویہ کہنے میں شایدکسی کوحرج نہیں ہوگاکہ وہ فیصلے بھی لئے گئے جومنتخب سرکارکے دورمیں پس پشت ڈالے گئے تھے ۔19جون کو مخلوط سرکار گرجانے کے ساتھ ہی ریاست میں گورنرراج نافذ کردیاگیا اور گورنرراج کے دوسرے روز ریاست کیلئے نئے چیف سیکریٹری کی تعیناتی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ گورنر کے لئے دومشیربھی مقرر کئے گئے۔21جون سے گورنرانتظامیہ نے ریاستی انتظامیہ میں تبادلوں وتقرریوں کا سلسلہ شروع کیا اورتب سے 10جولائی 2018ء تک ایسے گیارہ احکامات صادر کئے گئے جبکہ اس دوران 29جون کوگورنر کے لئے ایک اور مشیر کی تقرری عمل میں لائی گئی۔گورنر انتظامیہ کے تین ہفتوں کے دوران کل73اعلیٰ افسروں کے تبادلے اور نئی تقرریاں عمل میں لائی گئیں جبکہ جوافسرجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کیساتھ منسلک رکھے گئے تھے ، اْن کو بھی مختلف سرکاری محکموں میں اہم عہدوں پر تعینات کیاگیا۔ گزشتہ23دنوں کے دوران جاری کردہ 1احکامات کے تحت 12آئی اے ایس افسروں اور14اے اے ایس افسروں کے ساتھ ساتھ46پرائیویٹ سیکریٹریوں کو بھی ایک محکمہ یا ایک ذمہ داری سے ہٹاکر دوسرے محکمہ یا دوسری ذمہ داری کے لئے تعینات کیاگیا۔ گورنر انتظامیہ کے دور میں تبادلوں اور تقرریوں کے جو احکامات صادر کئے گئے ، اْن کے حوالے سے 21جون ،26جون ،29جون ،2جولائی،3جولائی ،9 جولائی،10جولائی اور12جولائی کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آرڈر جاری کئے گئے۔ 19جون کو گورنر راج نافذ ہونے کے بعد ریاستی انتظامی کونسل کا قیام بھی عمل میں لایاگیا اور اب تک کونسل کی2میٹنگیں ریاستی گورنر این این ووہرا کی زیر صدارت منعقد ہوچکی ہیں اور ان میٹنگوں میں ریاستی انتظامیہ ، مختلف سرکاری محکموں ، جاری ترقیاتی وتعمیراتی عمل ،ملازمین کے مطالبات اوردیگر مسائل کے حوالے سے اہم فیصلے بھی لئے گئے۔ریاستی انتظامی کونسل کی تیسری اورچوتھی میٹنگ میں بھی بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریوں میں تیزی لانے کیساتھ ساتھ مزیدکئی اہم فیصلوں کوبھی منظوری د گئی ۔ ریاستی انتظامی کونسل کی ایک میٹنگ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پائی جانے والی تفاوت کو دور کر نے کے حوالے سے سیکرٹریٹ میں 22سال سے دْھول چاٹ رہی فائیل کو گو ر نر انتظامیہ نے ہر ی جھنڈی دکھادی ہے اور ممکنہ طورپرفائیل کو آنے والی (ایس اے سی میٹنگ ) میں منظوری ملنے کے ساتھ ہی ہزاروں ملازمین کے بر سوں پرانے مطالبات پورے ہو جائیں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ گورنرراج نافذہونے کے بعدسرکاری محکموں کے کام کاج میں بھی بہتری آئی ،اورملازمین کی حاضری بڑھ گئی۔فائلوں کے نپٹارے میں تیزی آئی ۔اسکے ساتھ ساتھ گورنرکی سربراہی میں ریاستی انتظامی کونسل نے سیاسی بنیادوں پر زیرالتواء رکھے گئے وہ لسٹ جاری کرنابھی شروع کردئیے ہیں جوبرسوں سے سیکرٹریٹ کی کسی الماری میں دُھول چاٹ رہے تھے ۔

Share This Article