برہان وانی کی دوسری برسی پر کشمیر میں فقیدالمثال ہڑتال، کہیں کرفیو تو کہیں پابندیاں

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر ، 8 جولائی: وادی کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیم ’حزب المجاہدین‘ کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی کے موقع پر وادی کے سبھی دس اضلاع میں اتوار کو مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر فقیدالمثال ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔
اس دوران انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں برہان وانی کے آبائی قصبہ ’ترال‘ میں اعلانیہ جبکہ سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ حصوں میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کرکے مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ’ترال چلو‘ کی کال نام بنادی۔ مزاحمتی قائدین اور دیگر علیحدگی پسند لیڈران و کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے چند روز قبل ہی پولیس تھانوں یا اپنے گھروں میں نظر بند کردیا گیا تھا۔
احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر درجنوں مبینہ سنگبازوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ ’ترال چلو‘ کو ناکام بنانے کے لئے وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات منقطع رکھی گئیں۔ اس کے علاوہ احتیاطی طور پر وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ اور مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت محدود کردی گئی۔
قصبہ ترال کے رہنے والے 22 سالہ برہان وانی کو 8 جولائی 2016 ء کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا۔ ایچ ایم کا پوسٹر بائے سمجھے جانے والے برہان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی پوری وادی ابل پڑی تھی۔
جاری۔یو این آئی

Share This Article