وزیر اعظم نریندر مودی کے ‘بیل گاڑی’ کے وار پر حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز راجستھان کے دار الحکومت جئے پور میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کے دوران کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس بیل گاڑی ہے چونکہ اس کے زیادہ تر رہنما ‘بیل’ یعنی ضمانت پر ہیں۔
اس بیان کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما شکیل احمد اور کپل سبل نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے بی جے پی کے رہنماؤں کو ‘جیل گاڑی’ کے لقب سے نوازا ہے۔
کپل سبل نے مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما جینت سنہا پر لنچنگ کے مجرموں کی رہائی کے بعد گلپوشی پر پارٹی کو ‘لنچ پجاری’ کا نام دیا ہے۔
کانگریس کے رہنما شکیل احمد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ” وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس کو بیل گاڑی کہا چونکہ کانگریس کے کچھ رہنما ضمانت پر ہیں، اس طرح سے تو بی جے پی جیل گاڑی ہوئی۔ بی جے پی کے کم از کم دو صدور [ ایک سابق اور ایک موجودہ] عدالت کے فیصلے کے بعد جیل گئے تھے اور جیل جانے سے اچھا ہمیشہ بیل (ضمانت) کو مانا جاتا ہے”
وہیں کانگریس کے دوسرے رہنما کپل سبل نے ٹویٹ کیا ” بیل پر باہر آنے والے لنچنگ کیس کے 8 ملزمین کی جینت سنگھ نے گلپوشی کی، مودی جی آپ نے غلط سمجھا ، لوگ اب آپ کی پارٹی کو لنچ پجاری کہنے لگے ہیں” ۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس جھارکھنڈ کے رام گڑھ علاقے میں گوشت کے کاروباری محمد علیم الدین کو ایک ہجوم نے گائے کی منتقلی کی افواہ پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔
اس معاملے میں فاسٹ ٹریک کورٹ نے اسی برس مارچ کے مہینے میں 11 افراد کو قصور وار قرار دیا تھا لیکن پچھلے ہفتے رانچی ہائی کورٹ نے اُن میں سے 8 کی عمر قید کی سزا کو معطل کرتے ہوئے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
ان کی رہائی کے بعد بی جے پی رہنما و مرکزی وزیر جینت سنہا جو کہ اسی پارلیمانی حلقے سے رکن پارلیمان بھی ہیں، نے ان لوگوں کا استقبال کرتے ہوئے ان کی گلپوشی کی۔ اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں تھیں۔ اس کے بعد سے ہی جینت سنہا اپوزیشن لیڈروں کے نشانے پر ہیں۔
