نئی سرکار کی تشکیل کا معاملہ اور قیاس آرائیاں ،کیا ریاست کے موجودہ دل بدلی مخالف قانون کے تحت سرکار بنانا ممکن ؟

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر:٥،جولائی :کے این این/ ریاست جموں وکشمیر میں 19جون سے جاری گورنر راج کے چلتے جہاںنئی سرکار تشکیل کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ، وہیں ماہرین مانتے ہیں کہ ریاست میں لاگو دل بدلی مخالف قانون یعنی Anti-defection Law کے چلتے کوئی بھی جماعت نئی سرکار تشکیل نہیں دے سکتی ہے۔آئینی ماہرین کا کہناتھا کہ ریاست جموں وکشمیر نے اس وقت جمہوری طرز نظام میں ایک سنگ میل طے کرکے انڈین یونین میں منفرد مقام حاصل کیا جبکہ سال 1979ء میں اْس وقت کے وزیراعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے دل بدلی مخالف قانون اسمبلی میں منظور کرالیا، جس کے تحت اگر کسی جماعت سے کوئی منتخب اسمبلی چلاجاتاہے اور وہ کسی دوسری جماعت میں شامل ہوجاتاہے تو اس کی اسمبلی رکنیت خود بخود ختم ہوجائے گی۔ ریاست میں دل بدلی مخالف یہ قانون سال 2006تک اسی حالت میں نافذ رہااورسابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کے دوراقتدار میں اْس وقت کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیربرائے قانون انصاف وپارلیمانی امور مظفر حسین بیگ نے ریاستی اسمبلی میں ایک بل پیش کی جس کا مقصد ریاست میں 1979ء سے لاگو دل بدلی مخالف قانون کو مزید مضبوط بناناتھا۔ اس قانون کے تحت ریاست میں کسی بھی جماعت سے تعلق رکھنے والے منتخب ممبران اسمبلی پارٹی چھوڑ کر اگر الگ گروپ تشکیل دیتے ہیں یا کہ کسی دوسری جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں تو ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہوجائے گی اورانہیں دوبارہ اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کی غرض سے الیکشن لڑنا پڑے گا۔ تاہم اب تک اس قانون کو صحیح معنوں میں بروئے کار نہیں لایاگیا کیونکہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی مخلوط سرکار کے دور میں جب قانون ساز کونسل کی کچھ نشستوں کے لئے انتخابات ہونیوالے تھے تو اْس وقت بھارتیہ جنتاپارٹی کے 7ممبران اسمبلی نے نیشنل کانفرنس امیدوار کے حق میں اپنے ووٹوں کااستعمال کیاتھا اور بھاجپا نے ان سبھی ممبران اسمبلی کی رکنیت کوختم کئے جانے سے متعلق درخواست اسمبلی کے اسپیکر کو بھیج دی تھی لیکن عمر عبداللہ کے دورمیں اسمبلی کے دواسپیکروں محمد اکبر لون اور مبارک گل نے بھاجپا کی جانب سے بھیجی گئی درخواست پر کوئی عمل نہیں کیا اور اس بناء پر پارٹی ویپ کیخلاف جانیوالے بھاجپا کے7ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم نہیں کی گئی تھی۔ ایسے میں سرکاربنانے کیلئے’ہورس ٹریڈنگ‘کااندیشہ برقرارہے۔اب یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ آیا اس قانون کے باوجود جموں وکشمیر میں ہارس ٹریڈنگ یا دل بدل کے ذریعے نئی حکومت کی تشکیل ہوگی یا نہیں

Share This Article