باغایانہ تیور رکھنے والے ارکان ِ اسمبلی کے خلاف پی ڈی پی کا سخت موقف انضباطی کارروائی کا عندیہ آئندہ دو روز میں ہنگامی اجلاس ،سبھی معامالات پر ہوگا غور

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
عبدالرحمان ویری پارٹی کے نائب صدر مقرر

:رفیع میر سری نگر:٥،جولائی :کے این این/ حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد اندرونی طور انتشار و خلفشار کی شکار پی ڈی پی نے با غایانہ تیور رکھنے والے ارکان ِ اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو روز میں پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جارہا ہے ،جس میں تمام امور پر تبادلہ خیال کیا جائیگا اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی ترتیب دی جائیگا ۔پارٹی کے ترجمان رفیع احمد میر نے کہا کہ پارٹی انتشار وخلفشار کی شکار نہیں ،البتہ پارٹی میں الگ الگ نظریہ کی سوچ ضرور ہے جبکہ پی ڈی پی ’ہارس ٹریڈنگ ‘پر یقین نہیں رکھتی ۔ کشمیر نیوز نیٹ ورک (کے این این ) کے ساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی کے ترجمان رفیع احمد میر نے کہا کہ پارٹی اُن تمام بیانات کا مشاہدہ کر رہی ہے ،جوحکومت گر جانے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈران کی جانب سے دئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں انضباطی کمیٹی موجود ہے ،جو ان بیانات کا از خود نوٹس لے گی ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک پارٹی نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ،تاہم جن سینئر لیڈر ان نے پارٹی مخالف بیانات دئے ،اُنکے خلاف انضباطی کمیٹی ہی کارروائی کرے گی ۔ان کا کہناتھا’ پی ڈی پی کی انضباطی کمیٹی ہے ، جواِس معاملے کا ازخود نوٹس لے گی ‘۔محمد رفیع میر نے کہا کہ حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد پارٹی کے لیڈران وعہدیداراں اپنے اپنے حلقوں میں مصروف ِ عمل تھے جبکہ پارٹی صدرمحبوبہ مفتی ریاست سے باہر تھیں ، جسکی وجہ سے پارٹی کے سینئر لیڈران کی جانب سے سامنے آئے بیانات کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اجلاس طلب کیا جاسکا ۔پی ڈی پی ترجمان رفیع احمد میر نے کہا ’پی ڈی پی ایک کٹھن مخلوط سرکار چلا رہی تھی ، ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈران اس حوالے سے ایک علیحدہ نظر یہ رکھتے ہو ‘۔انہوں نے پارٹی کے سینئر لیڈران کی جانب سے حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد عدم اعتماد کا اظہار کرنے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں رفیع احمد میر نے کہا ’پارٹی مضبوط ہے ،پارٹی کے اندر کوئی انتشار نہیں ،ہاںایک الگ نظر یہ اُن ہوسکتا ہے ،وہ ہمارے سینئر ساتھی ہیں ،اُنہیں طلب کیا جائیگا ،اُن سے وجوہات پوچھی جائیں گی ،کیو نکہ ہم نے کسی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ دی ہے ‘۔ان کا کہناتھا کہ آئند ہ دو روز میں پارٹی کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا جارہا ہے ،جس میں اِن تمام معاملات پر غور وخوض کیا جائیگا جبکہ اس اجلاس میں ہی آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا ۔ریاست میں نئی سرکار کی تشکیل کے حوالے سے پو چھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فی الوقت پی ڈی پی نئی سرکار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے جبکہ پی ڈی پی ’ہارس ٹریڈنگ ‘ پر یقین نہیں رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سرکار کی تشکیل کے حوالے سے پی ڈی پی کا موقف واضح ہے کہ ریاست میں اگر کوئی بھی سرکار بنتی ہے ، وہ صاف وشفاف اور جمہوری اصولوں پر بننی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں گور نر راج بھی نافذ رہتا ہے ،لیکن عوام کو تین دہائیوں کے نامساعد حالات کی مصیبت نکالا جانے چاہئے اور پی ڈی پی کا مقصد بھی یہی ہے کہ ریاستی عوام کو مصیبت سے باہر نکالا جاسکے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں پی ڈی پی کے دو سینئر لیڈران عابد انصاری اور عمران انصاری نے باغیانہ تیور دکھا تے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی پی میں خاندانی راج ہے جبکہ وہ ایک نئی پارٹی میں شمولیت کرنے سے کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جبکہ دیگر دو ممبران اسمبلی نے بھی پارٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا ،تاہم ابھی تک مذکورہ ممبران اسمبلی کے خلاف پارٹی کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

Share This Article