جموں وکشمیر خالصتاً ایک سیاسی مسئلہ ، فوجی یا عسکری طور پر حل نہیں کیاجاسکتا:وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی

رمضان سیزفائر،مذاکراتی پیشکش اہم ترین پہل
کہامسئلہ کشمیرکے حل،انسدادکشت وخون اورقیام امن کیلئے علیحدگی پسندموقعہ نہ گنوائیں

سری نگر:۱۱،جون:کے این این/ خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیری علیحدگی پسندوں کو مرکز کی مذاکراتی پیش کش قبول کرنیکا مشورہ دیتے ہوئے پھر یہ واضح کیاکہ جموں وکشمیر خالصتاً ایک سیاسی مسئلہ ہے ، جس کو فوجی یا عسکری طور پر حل نہیں کیاجاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ رمضان سیز فائر کا فیصلہ لیکر مرکزی حکومت نے مذاکرات کی جانب ایک اہم پہل کی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک سیاسی عمل کا آغاز ہوسکتاہے ۔کے این این سٹی رپورٹر کے مطابق شہر کے مہجورنگر علاقہ کے نزدیک تین سال کی طویل مدت کے بعد مکمل ہوئے ایک اہم پل کو عوام کے نام وقف کرنے کے بعد یہاں موجود نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ مرکزی سرکار کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش ایک سنہری موقعہ ہے اور علیحدگی پسندوں کو یہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ سبھی لوگ جانتے اور مانتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کو سیاسی بنیادوں پرہی حل کیاجاسکتاہے ، اس لئے علیحدگی پسندوں سمیت تمام متعلقین کو آگے آکر مرکزی سرکار کی پیش کش سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ مذاکراتی پیش کش سے قبل مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرمیں رمضان جنگ بندی کاجو اعلان کیا ، وہ ایک سیاسی عمل کی جانب ایک اہم پہل مانی جاسکتی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ انہیں محسوس ہورہاہے کہ کہیں سیاسی عمل کو آگے لیجانے کی کوششیں بڑے پیمانے پر ہورہی ہیں اورجہاں تک ہمارا رول ہے تو ہم سب کو اس میں شامل ہوناچاہیے ۔تاہم وزیراعلیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا انحصار کشمیر کے حالات پر ہے اور جب تک حالات زمینی سطح پر بہتر رہتے ہیں ، تب تک سیاسی عمل بھی آگے بڑھے گا۔ خاتون وزیراعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر میں جو غیریقینی صورتحال اور امن وامان کے حوالے سے غیر مستحکم حالات دیکھنے کو ملتے ہیں ، اُن سے نجات پانے کے لئے علیحدگی پسندوں سمیت تمام متعلقین کو مذاکرات کے حوالے سے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی حالیہ پیش کش پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سیاسی عمل میں شامل ہوناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے سیاسی مسئلے اور جموں وکشمیر سے جڑے دیگر مسائل کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے ، اسلئے سبھی متعلقین کو سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہیے ۔خاتون وزیراعلیٰ نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیاکہ کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ جموں وکشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کو فوجی وعسکری ذرائع سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی کی مذاکراتی پیش کش ایک سنہری موقعہ ہے اور تمام گروپوں کو اس موقعہ کافائدہ اٹھانا چاہیے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ایسا بار بار نہیں ہوتاہے کہ مرکز کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش سامنے آئے ، ا سلئے اس موقعے کافائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھا کہ 18سال بعد ریاست میں مرکز کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور پھر مذاکرات کی پیش کش بھی کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارہ سال قبل اُس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے ریاست میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیاتھا اور اس کے بعد مرکزکی مذاکراتی پیش کش پر عمل کرتے ہوئے علیحدگی پسند اُس وقت کے نائب وزیراعظم اور مرکزی داخلہ ایل کے ایڈوانی سے نئی دہلی میں مذاکرات کے لئے گئے تھے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آج بھی ویسی ہی صورتحال اور ویسا ہی موقعہ ہمارے سامنے ہے ، جس کا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر مسئلے کا حل نکالنے ، کشمیر میں امن قائم کرنے اور یہاں جاری خون خرابے کو بند کرانے کے لئے سب گروپوں کا رول بنتاہے اور ایسا رول نبھانے کے لئے ہمیں سیاسی عمل کا حصہ بننا پڑے گا۔وزیراعلیٰ کا مزیدکہناتھا کہ یہ تمام سیاسی گروپوں بشمول علیحدگی پسند وں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں دہائیوں سے جاری کشت وخون اور تباہی وبربادی کے سلسلے کو بند کرانے کے بارے میں سوچیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے یہاں قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں ، تعلیمی سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں اور تعمیراتی وترقیاتی عمل میں بھی بار بار رخنہ پڑجاتاہے ، اسلئے ہمیں ان تمام نقصانات اور مشکلات سے نجات پانے کے لئے آگے آنا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ نے مہجو ر نگر پل کے دوکے بجائے تین سال میں مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہاں مقررہ وقت میں کوئی کام یا پروجیکٹ پورا نہیں ہوپاتاکیونکہ حالات کی وجہ سے کام رک جاتے ہیں ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کو مذاکراتی عمل میں شامل کرانے کے لئے کی جارہی کوششوں کے بارے میں وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ ہم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے لیکن ساتھ ہی محبوبہ مفتی نے اس امید کااظہار کیاکہ علیحدگی پسند اس موقعہ یعنی مذاکراتی پیش کش کا فائدہ اٹھائیں گے ۔رمضان سیز فائر میں توسیع کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ اس بارے میں وزیراعظم اور مرکزی وزیرداخلہ صورتحال کا احاطہ کرنے کے بعد فیصلہ لیں گے ۔ محبوبہ مفتی کا کہناتھاکہ’’ مجھے پوری امید ہے کہ وزیراعظم مودی اور مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بہتر فیصلہ لیں گے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ رمضان جنگ بندی کی وجہ سے عام لوگوں کو کافی راحت ملی ہے کیونکہ فوج وفورسز کی جانب سے جنگجومخالف آپریشن بند کئے گئے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ جنگجوگروپ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، جس سے سیاسی عمل شروع ہونے اور سیز فائر میں توسیع جیسے اہم اقدامات کو نقصان پہنچ سکتاہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماہ رمضان کے دوران بھی جنگجوؤں نے گرینیڈ داغے ، ہتھیارچھیننے کے واقعات انجام دیئے اوراپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں ایک نئے عمل کو نقصان پہنچ سکتاہے ۔

Share This Article