جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کی بحالی ہی پارٹی کی ترجیح،عوامی عدالت میں جائیں گے :غلام احمد میر
سری نگر:٣،جولائی :کے این این/ موجودہ صورتحال میں کانگریس پارٹی کے تعائون سے نئی حکومت سازی کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کانگریس نے واضح کیا کہ ریاست جموں وکشمیر میں غیر معینہ عرصے کیلئے گور نر راج نافذ نہیں رہنا چاہئے ۔سرینگر میں طویل ترین مشاورت جاری رہنے کے بیچ پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہا کہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کی بحالی ہی پارٹی کی ترجیح ہے جبکہ عوامی حکومت لوگوں کا بنیادی حق ہے ،تاہم سیاسی وجمہوری عمل کیلئے ساز گار ماحول ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جمہوری اور سیکولر اصولوں پر یقین رکھتی ہے اور جموں وکشمیر میں نئی حکومت سازی کیلئے عوام کے درمیان جائیگی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے پارٹی کی غیر معمولی میٹنگ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صبح 11بجے کانگریس کے سینئر لیڈران وعہدیداراں کی ایک مشاورتی میٹنگ جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی وسیکورٹی صورتحال کے حوالے سے جاری ہے ،جو رات دیر گئے تک جاری رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں مرکز سے پارٹی کے سینئر لیڈران جن میں انچارج برائے جموں وکشمیر امبیکا سونی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد شامل ہیں جبکہ پارٹی کے موجودہ اور سابق ممبران قانون سازیہکے سینئر عہدیداراں شامل ہیں ۔میٹنگ میں لئے جانے والے فیصلوں کے بارے میں غلام احمد میر کا کہناتھا کہ موجودہ صورتحال میں کانگریس کے تعائون سے نئی حکومت سازی ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے گور نر این این ووہرا کو اپنی پوزیشن سے آگاہ کیا ہے ،کہ اگر کوئی بھی سیاسی جماعت تحریری طور پر حکومت بنانے کا دعویٰ کرتی ہے ،تو ایک مختصر وقت میں اُسے اپنی اکثریت ثابت کر نی چاہئے ،تاہم کانگریس پارٹی نے ایسا کوئی دعویٰ ابھی تک نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران کیلئے پی ڈی پی ،بھاجپا مخلوط حکومت ذمہ دار ہے جبکہ یہ ناپاک اتحاد ٹوٹنے کیلئے ہوا تھا اور بالا آخر یہ اتحاد ٹوٹ گیا ،جس کو لمحے کا انتظار تھا ،جو ان دونوں جماعتوں نے خود لایا ۔انہوں نے نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا ’ کانگریس پارٹی جموں وکشمیر میں لمبے عرصے تک گور نر راج کے حق میں نہیں‘ ۔انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت ریاستی عوام کا حق ہے ،تاہم زمینی سطح پر بہتر صورتحال ناگزیر ہے ،تاکہ سیاسی اور جمہوری عمل میں لوگ بہ آسانی حصہ لیں سکیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں گور نر راج کے حوالے سے قواعد وضوابط موجود ہیں اور اُنکے تحت ہی ریاست میں گور نر راج کا نفاذ رہنا چاہئے ۔غلام احمد میر نے کہا کہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کی بحالی پارٹی کی پہلی ترجیح ہے ۔ایک سوال کے جواب میںکانگریس پارٹی عوامی عدالت میں جا ئیگی اور عوام کا جو بھی فیصلہ ہو گا ،وہ پارٹی کو منظور ہوگا ۔دل بدلی حکومت سازی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں غلام احمد میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس عمل پر یقین نہیں رکھتی اور جو کوئی بھی پارٹی جموں وکشمیر کے دلد بدلی قانون کی دھجیاں اُڑاتی ہے تو اڑائیں ،کانگریس پارٹی جمہوری اور سیکولر ازم کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی میٹنگ 11بجے شروع ہوئی ،جو رات دیر تک جاری رہے گی اور اس میں لئے جانے والے فیصلوں کے حوالے سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا ۔ادھر کشمیر کی سیاسی وسیکورٹی صورتحال پر طویل ترین اجلاس جاری ہے ،جس میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا ۔

