کشمیرمیںہمارے اہداف
مذاکرات کیلئے مصالحت کارسرگرم عمل
سری نگر:٣،جولائی :/ وزیراعظم ہندنریندرمودی نے ’اچھی حکمرانی ،ترقی ،ذمہ داری اوراحتساب‘کوکشمیرکیلئے مرکزی سرکارکے متعین کردہ مقاصدیا اہداف قراردیتے ہوئے یہ واضح کیاہے کہ جموں وکشمیرمیں قیام امن کیلئے مرکزی حکومت نے ایک مذاکرات کارکی تقرری عمل میں لائی ہے جواپناکام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کسی بھی طرح کے تشددکوناقابل برداشت قراردیتے ہوئے کہاکہ اب بھارت میں دہشت گردانہ حملے ماضی کی داستان بن چکی ہے ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیراعظم ہندنے ایک میگزین یارسالے’سوراج‘ کودئیے تفصیلی وطویل انٹرویوکے دوران ملکی صورتحال ،اقتصادی وسیاسی حالات وواقعات،شمالی مشرقی ریاستوں اورجموں وکشمیرمیں جاری جنگجوئیانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پیش نظراپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایک جامع اتحاد یاگرینیڈالائنس تشکیل دئیے جانے جیسے سوالات کاایک ایک کرجواب دیاہے ۔نریندرمودی نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کاکوئی ایجنڈانہیں ماسوائے اسکے کہ مودی کوکیسے ہٹایاجائے۔انہوں نے کہاکہ جس گرینیڈالائنس کی باتیں گشت کررہی ہیں ،اُسکے پاس ملک کے حوالے س کوئی پالیسی وپروگرام یاکوئی ایجنڈاہی نہیں ہے بلکہ اُن کاایجنڈامودی ہٹائوہے۔شمالی مشرقی ریاستوں اورجموں وکشمیرکی سیکورٹی صورتحال ے بارے میں پوچھ گئے سوالات کاجواب دیتے ہوئے وزیراعظم ہندنریندرمودی کاکہناتھاکہ شمالی مشرقی ریاستوں میں اب صورتحال کافی بہترہوئی ہے کیونکہ وہاں بندوق بردارنوجوانوں میں خودسپردگی کارُجحان بڑھا۔انہوں نے کہاکہ اب شمال مشرقی ریاستوں میں پائیدارامن ،ترقی ،خوشحالی ،اچھی حکمرانی اورمختلف سطحوں پراحتساب کوترجیح دی جارہی ہے تاکہ یہاں لوگوں بالخصوص نوجوانوں کااعتمادبحال ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکارکوان ریاستوں میں بحالی امن کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات میں کامیابی ملی ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب ان ریاستوں میں نوجوان سیاسی اورجمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں ۔جموں وکشمیرکی سیاسی اورسیکورٹی صورتحال کے بارے میں سوالات کے جواب میں وزیراعظم ہندنریندرمودی کاکہناتھا’’کشمیرمیں’ اچھی حکمرانی ،ترقی ،ذمہ داری اوراحتساب‘ہماری اولین ترجیحات اوربنیادی مقاصدواہداف ہیں ،اورہم ان مقاصدکوحاصل کرنے کیلئے کام کررہے ہیں ۔مودی نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں لوگوں کواچھی حکمرانی فراہم کرنا،ترقیاتی عمل میں سرعت لانا،انتظامی سطح پرذمہ داری پیداکرنااورمختلف سطحوں پراحتساب وجوابدہی کوفروغ دیناہماری بنیادی اہداف اورمقاصدہیں ۔ایک سوال کے جواب میں نریندررمودی نے کہاکہ جموں وکشمیرسے جڑے مسائل کاحل نکالنے نیزوہاں بحالی امن کی کوششوں کوتقویت پہنچانے کیلئے مذاکرات کادروازہ کھلارکھاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرمیں سبھی متعلقین کیساتھ مذاکرات کیلئے اپنانمائندہ مقررکردیاہے ۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ سبھی متعلقین کیساتھ مذاکرا ت کیلئے مصالحت کارتعینات کئے گئے اوروہ سماج کے مختلف حلقوں کیساتھ برابررابطے میں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مذاکرات کاراپناکام کررہے ہیں ،اوروہ ریاست کے مختلف علاقوں کادورہ کرکے وہاں لوگوں کیساتھ اپنے روابط کوبڑھارہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم ہندکاکہناتھاکہ اب بھارت میں دہشت گردانہ حملے ماضی کی داستان بن چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ یوپی اے سرکارکے دورمیں دہشت گردانہ حملے ہواکرتے تھے لیکن موجودہ مرکزی سرکارکے دورمیں ایسی سرگرمیوں پرروک لگائی گئی ۔مودی کاکہناتھاکہ ہم نے دہشت گردانہ سرگرمیوںکاقلع قمع کرنے کیلئے کارگرحکمت عملی مرتب کرکے اس پرعمل درآمدکوبھی یقینی بنایا،اوریہی وجہ ہے کہ اب ملک میں دہشت گردانہ حملے نہیں ہوتے ہیں ۔

