توسیع کے فیصلے کی پاسداری ہوگی:فوج
جنگجوؤں گروپوں میں نئی بھرتی کے رُجحان میں کمی آنے کی اُمید:جنرل بھٹ
سری نگر:۱۲،جون: / کشمیروادی میں تعینات فوج کی کمان سنبھالنے والے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈرلیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ کامانناہے کہ29مئی سے لاگورمضان سیزفائرکے بعدجنگجوگروپو ں میں نئی بھرتی میں کوئی خاص اضافہ ہونے کے کوئی شواہدنہیں ملے ہیں ۔تاہم انہوں نے کہاکہ پاکستان لائن آف کنٹرول سے جنگجوؤں کوکشمیروادی میں داخل کرنے کی پالیسی پرقائم ہے ۔کے این این کے مطابق فوج کی15ویں کورکے سربرا ہ لیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ نے مرکزکی جانب سے ماہ رمضان کے پیش نظرجنگجومخالف کارروائیاں معطل رکھنے کے فیصلے کاکشمیرمیں عوامی سطح پرمثبت ردعمل سامنے آیاہے کیونکہ عام لوگوں کواس اقدام سے کافی راحت ملی ۔انہوں نے کہاکہ رمضان سیزفائرکے نتیجے میں یہاں کسی حدتک امن وامان کی صورتحال بھی بہتررہی ۔خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کیساتھ ایک انٹرویومیں سرینگرنشین چنارکارپس کے جنرل آفیسرکمانڈنگ لیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ نے کہاکہ اسبات کے کوئی اشارے نہیں ملے کہ سیزفائرکے بعدجنگجوگروپوں میں ہونے والی بھرتی میں کوئی اضافہ ہواہے۔انہوں نے یہ اُمیدظاہرکی کہ جنگجوؤں گروپوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت کے رُجحان میں کمی آئیگی۔لیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ کاکہناتھاکہ رمضان سیزفائرکے بعدکشمیروادی میں کسی حدتک امن رہاجبکہ مرکزی سرکارکے اس اقدام کاعوامی سطح پرمثبت تاثردیکھنے کوملاہے ۔فوج کی پندرہویں کورکے سربراہ نے کہاکہ ہمیں خوشی ہوگی کہ اگرماہ رمضان کے30دنوں میں کوئی شہری ہلاکت نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں لیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ نے واضح کیاکہ جموں وکشمیرمیں لاگورمضان سیزفائرکی معیادمیں توسیع کافیصلہ مرکزی حکومت لے گی تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ فوج ایسے فیصلے کی پاسداری کرے گی اورزمینی سطح پربھی اس پرعمل درآمدکیاجائیگا۔فوج کے اعلیٰ کمانڈرکاکہناتھا’سیزفائرمیں توسیع کافیصلہ مرکزلے گالیکن فوج توسیع کی صورت میں سیزفائرفیصلے پرمن وعن عمل کرے گی‘۔سرحدپارسے دراندازی کی کوششوں کے بارے میں لیفٹنینٹ جنرل اے کے بھٹ نے کہاکہ پاکستانی فوج کی جانب سے جنگجوؤں کواس پاردھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایل اؤسی پرتعینات فوج کے متحرک دستے ایسی کوششوں کوناکام بنارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دراندازی کی کوششوں کاتوڑکرنے کیلئے لائن آف کنٹرول پرفوج کوسریع الحرکت رکھاگیاہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ پاکستان لائن آف کنٹرول سے جنگجوؤں کوکشمیروادی میں داخل کرنے کی پالیسی پرقائم ہے۔سیکورٹی اہلکاروں سے ہتھیارچھین لینے کے واقعات کاذکرکرتے ہوئے15ویں کورکے سربراہ جنرل اے کے بھٹ نے کہاکہ ایسے واقعات جنگجوؤں کی مایوسی اورنااُمیدی کوظاہرکرتاہے۔انہوں نے کہاکہ ایسی کوششوں کوناکام بنانے کیلئے ریاستی پولیس موثرحکمت عملی پرعمل پیراہے۔خیال رہے29مئی سے جاری رمضان سیزفائرکی معیادرواں ماہ کی 15یا16تاریخ یعنی عیدالفطرکے موقعہ پرمکمل ہوجائیگی ،اوراسے قبل مرکزی سرکارکوسیزفائرمیں توسیع کرنے یانہ کرنے کافیصلہ لیناہوگا۔

