حکومت ہند کی مذاکراتی پیشکش پالیسی یاصورتحال میں تبدیلی،تعین وقت کریگا
سری نگر:۸،جون:/ میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری نوجوانوں کو آزادی کے علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِنکی عظیم قربانیوں کی بدولت حکومتِ ہندوستان اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی مذاکراتی پیشکش پالیسی میں تبدیلی ہے یاصورتحال میں تبدیلی ،اس کا فیصلہ وقت ہی کریگا۔میرواعظ نے کہا کہ یہ لوگ آج تبدیلی اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ تبدیلی پی ڈی پی یا اسکی سرکار کی کاوشوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہاں کے نوجوانوں اور حریت پسند عوام نے تحریک آزادی کے ساتھ بے خوف ہوکر جس اٹوٹ وابستگی اور عزم کا مظاہرہ کیاہے یہ اُسی کی دین ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ جموں وکشمیر کے حالات گزشتہ ۳۰ برسوں سے بالعموم اور گزشتہ چار برسوں سے بالخصوص ظلم و جبر ، مار دھاڑ، نہتے لوگوں کو ٹارگٹ بناکر شہید کرنا ، حکومت کی پالیسی سے عبارت رہے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ خصوصاً جب سے بی جے پی کی حکومت ہندوستان میں برسر اقتدار آئی ہے امید یہ ہو چلی تھی کہ یہ لوگ اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی اختیار کریں گے جنہوں نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ مسئلہ کشمیر کوئی اقتصادی یا معاشی پیکیجز کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میں رہ کر پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعہ ہی حل کرنا ہوگا مگر ان لوگوں نے اس پالیسی سے یکسر انحراف کرکے ایک طرف پاکستان کے ساتھ محا ذ آرائی کا راستہ اختیار کیا دوسری طرف کشمیری عوام کو ہر محاذ پر دبانے کے حربے بروئے کار لائے۔ مذاکرات کے راستے مسدود کئے، سیاسی ، اقتصادی اور قانونی سطحوں پر ایسے حربے استعمال کئے تاکہ یہاں کے عوام اور نکی تحریک آزادی کو کمزور کیا جاسکے ۔اقتصادی محاذ پر جی ایس ٹی کے ذریعے یہاں کے عوام کی معاشی حالت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی اور این آئی اے اور آپریشن آل آؤٹ کے ذریعے حریت پسند ، قائدین اور نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا گیا ۔ صرف گزشتہ ایک سال کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو شہید کیا گیا ۔ مزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر قدغن اور بندشیں عائد کی گئی اور حکومت ہندوستان کے مقامی حواری اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے یہاں ان کے خاکوں میں رنگ بھرتے رہے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ لوگ آج تبدیلی اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ تبدیلی پی ڈی پی یا اسکی سرکار کی کاوشوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہاں کے نوجوانوں اور حریت پسند عوام نے تحریک آزادی کے ساتھ بے خوف ہوکر جس اٹوٹ وابستگی اور عزم کا مظاہرہ کیاہے یہ اُسی کی دین ہے کہ یہ لوگ ایسا کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور آج تک ان کے فوجی جنرل بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو طاقت اور تشدد کے بل پر حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ فوجی قوت کے استعمال سے کشمیریوں کیخلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔میرواعظ نے کہا’’آج ہر کشمیری جو دنیا کے کسی بھی حصے میں رہ رہا ہے آزادی کا علمبردار ہے، کشمیریوں نے ہر سطح پر چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا اور کوئی ذریعہ جذبہ آزادی کو تقویت بخشی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ یہاں کے عوام گزشتہ ۳۰ برسوں سے دنیا کی سب سے بڑی دوسری فوجی طاقت کے ساتھ نبردآزما ہیں‘‘۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ پالیسی میں تبدیلی ہے یاصورتحال میں تبدیلی،اس کا فیصلہ وقت ہی کریگا تاہم مزاحمتی اور حریت قیادت کسی جلد بازی میں نہیں ہے بلکہ مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور تمام پہلوؤں پر غور و خوض کے بعد ہی اپنا ردعمل ظاہر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ پالیسی میں تبدیلی ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اس مسئلہ سے جڑے تینوں فریق بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔میرواعظ نے اتحاد اور اتفاق کو کامیابی کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے جس ہمت ، حوصلے ، اتحاد اور یگانگت یا مظاہرہ کیا ہے آج اس کی بدولت جموں وکشمیر کے ہر خطے جموں، لداخ، ڈوڈہ ، کشتواڑ، بھدرواہ، راجوری، پونچھ، آزاد کشمیر، کے عوام کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کشمیر میں ترقی کی بات کرتی ہے ہم ترقی کیخلاف نہیں مگرترقی امن کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی اور امن تب تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جاتا اور مسئلہ کشمیر کا حل ہی اس خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ لوگ کشمیری نوجوانوں کی بات کرتے ہیں ، ان کو روزگار فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ یہی لوگ یہاں کے نوجوانوں کو آئے روز کسی نہ کسی بہانے شہید کررہے ہیں ۔ میرواعظ نے کہا کہ یہاں کے نوجوانوں نے رواں تحریک مزاحمت کے ساتھ جس عزم کا مظاہرہ کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج یہاں کے نوجوانوں کی چوتھی نسل اس تحریک سے جڑ چکی ہے۔ میرواعظ نے ہم کیا چاہتے آزادی، جس کشمیر کو خون سے سینچاوہ کشمیر ہمارا ہے۔یہ ملک ہمارا ہے اسکا فیصلہ ہم کریں گے کے فلک شگاف نعروں کے بیچ اعلان کیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی رہیگی۔میرواعظ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی بربریت اور جارحیت کے نتیجے میں مظلوم فلسطینی عوام جن مسائل اور مظالم کا سامنا کررہے ہیں ۔ یہ عالمی برادری خصوصاً مسلم امہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینی عوام کو انکے حقوق دینے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

