بھارت کشمیریوں کے سیاسی پلیٹ فارم کوختم کرنے پر بضد
سری نگر:۸،جون:/ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم لیڈرو کارکن سماجی روابط کے لائق نہیں جبکہ ہر صورت میں ان کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کیلئے سیاسی پلیٹ فارم کو مسمار کرتے ہوئے ان کا سیاسی مقابلہ کرنے سے خائف ہوچکا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق سید علی گیلانی نے اپنی رہائش گاہ کے صدر دروازے پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے عملے کی طرف سے درگاہ شریف حضرت بل میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دینے کے موقع پر ایک بیان جاری کیا ۔انہوں نے جمعۃ الوداع کے مقدس موقع پر جملہ ائمہ حضرات کی طرف سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے جاری کی گئی قراردادوں کی تائید وتوثیق کرنے کا بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ایک مؤثر عوامی ریفرنڈم سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حریت پسند عوام بھارت کے مقامی ایجنٹوں کی ریشہ دوانیوں سے ہر محاذ پر خبردار رہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں اپنی حمایت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔الیکشن میں ووٹ دینے کا معاملہ ہو یا پھر سرکاری تقریبات میں شمولیت کرنے کا معاملہ ہو ہر صورت میں ان کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے۔سید علی گیلانی نے قیادت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے تک کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کئے جانے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے حریت پسند عوام کو کسی بھی صورت میں ناامید ہونے نہیں دیں گے، چاہے اس مقدس مشن میں ہماری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ان کا کہناتھا کہ بھارت ریاست کی سرزمین پر اپنے 8لاکھ سے زائد افواج اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ مقامی پولیس انتظامیہ کے بل بوتے پر حریت پسند راہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں مقید رکھنے اور عام لوگوں پر جبروتشدد کی ظالمانہ کارروائیوں سے مرعوب کرنے کی بھرپور کوششیں کررہا ہے، لیکن حریت پسند عوام اور قائدین واراکین حریت کانفرنس کے بلند عزائم کے مقابلے میں اِسے ہر محاذ پر شکستوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت یہاں کے حریت پسندوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم کو مسمار کرتے ہوئے ان کا سیاسی مقابلہ کرنے سے خائف ہوچکا ہے۔ حریت راہنما نے جمعۃ الوداع کو پورے جموں کشمیر میں یوم القدس اور یوم کشمیر منائے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات اقوامِ متحدہ کے میز پر پچھلے ستہر برسوں سے ہنوز حل طلب ہیں۔سید علی گیلانی نے نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی عائد کرنے کی فسطائی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست کی سرزمین پر اپنے 8لاکھ سے زائد افواج اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ مقامی پولیس انتظامیہ کے بل بوتے پر حریت پسند راہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں مقید رکھنے اور عام لوگوں پر جبروتشدد کی ظالمانہ کارروائیوں سے مرعوب کرنے کی بھرپور کوششیں کررہا ہے، لیکن حریت پسند عوام اور قائدین واراکین حریت کانفرنس کے بلند عزائم کے مقابلے میں اِسے ہر محاذ پر شکستوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت یہاں کے حریت پسندوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم کو مسمار کرتے ہوئے ان کا سیاسی مقابلہ کرنے سے خائف ہوچکا ہے۔انہوں نے نے جمعۃ الوداع کو پورے جموں کشمیر میں یوم القدس اور یوم کشمیر منائے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات اقوامِ متحدہ کے میز پر پچھلے ستہر برسوں سے ہنوز حل طلب ہیں۔ حریت راہنما نے یروشلم کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کئے جانے کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے سفارت خانہ کھولے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عسکری، معاشی یا سیاسی طاقت کے بل بوتے پر اصولوں کو پامال نہیں کیا جانا چاہتے۔ حریت راہنما نے فلسطینی عوام پر صہیونی جارحیت کے نتیجے میں یہاں معصوم انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی بہیمانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنا اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ ضابطوں کے منافی ہے۔سید علی گیلانی نے فلسطین کی طرح مسئلہ کشمیر بھی پچھلے 70برسوں سے برصغیر میں ایک رستے ہوئے ناسور کی طرح موجود ہے۔ حریت راہنما نے کشمیری قوم کی طرف سے نہ صرف فلسطین، بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں مظلوم انسانیت کے حق میں اظہار یکجہتی کرنا لائق صد آفرین عمل ہے۔ حریت راہنما نے کہا کہ ہماری قوم بھارت کے جبری قبضے کے تحت استبدادی ہتھکنڈوں کی چکی میں پس رہی ہے اسی لیے ہمیں اپنے تلخ تجربے کی بنیاد پر فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلومین کی حالت زار کا بھرپور ادراک ہے۔

