کشمیر: برفانی تودہ گرنے سے لاپتہ ہوئے 3 افراد کی لاشیں ایک ہفتہ بعد برآمد

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر : شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے گچی بل بہک میں 24 فروری کو بھاری برکم برفانی تودے کی زد میں آکر لاپتہ ہونے والے تین لوگوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ وہ مبینہ طور پر جانوروں کا شکار کرنے کے لئے جنگل گئے ہوئے تھے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’بچاو¿ ٹیم نے لاپتہ تین لوگوں کی لاشیں بالآخر جمعرات کی صبح گچی بل بہک میں کئی فٹ برف کے نیچے دبی ہوئی پائی‘۔ انہوں نے بتایا ’لاپتہ لوگوں کی تلاش کے لئے 27 فروری کو 82 افراد بشمول 18 راشٹریہ رائفلز ، ریاستی پولیس، ایس ڈی آر ایف اور کچھ عام شہریوں پر مبنی ایک بچاو¿ ٹیم خصوصی ساز وسامان کے ساتھ جائے واردات پر بھیجی گئی تھی‘۔

ذرائع نے بتایا کہ جس علاقہ میں برفانی تودہ گرآنا کا واقعہ پیش آیا تھا، وہاں قریب 20 فٹ برف کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا ’27 فروری سے قبل بھیجی گئی بچاو¿ ٹیم جائے واردات سے واپس لوٹ آئی تھی، وہ اس لئے کہ ٹیم نے ماہر افراد اور ضروری سازوسامان کی کمی محسوس کی تھی‘۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ علاقہ میں بھاری برف کھڑا ہونے کی وجہ سے لاشوں کو لولاب پہنچانا ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا ’مہلوکین کی آخری رسومات کی انجام دہی کے لئے لاشوں کو ائرلفٹ کرکے لوب پہنچایا جائے گا‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ غلام محمد لون و محمد الطاف ساکنان وارنو اور بشیر احمد ساکنہ درد پورہ لولاب 24 فروری کو پولیس تھانہ لالپورہ کپواڑہ کے تحت آنے والا علاقہ گچی بل بہک میں برفانی تودہ کی زد میں آکر لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ جانوروں کا شکار کرنے کے لئے جنگل گئے ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے تناظر میں ضلع مجسٹریٹ کپواڑہ نے لائسنس والی بندوقیں رکھنے افراد کو اپنی بندوقیں نذدیکی پولیس تھانوں میں سرینڈر کرنے کے لئے کہا تھا۔ یو اےن آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے