سرینگر:شمالی قصبہ ہندوارہ میں25جنوری 1990کے سانحہ کی یاد میںجمعرات کو مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حق میں خصوصی دعائیہ مجالس اور اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا ۔
1990کے سانحہ کے28سال مکمل ہونے پرمشترکہ مزاحتمی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی کال پر جمعرات کوہندوارہ اور گردونواح کے علاقوں میں تمام طرح کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں و تجارتی مراکز مکمل طور بند رہے اور گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ۔ہڑتال کی وجہ سے بیشتر سڑکوں اور بازاروں میں دن بھر ہو کا عالم رہا اور لوگوں کی انتہائی کم تعداد نظر آئی۔
اس دوران 1990کے سانحہ میں مارے گئے افراد کی یاد میں کئی تعزیتی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور انکے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی۔ کئی علاقوں میں جاں بحق افراد کی یاد میں خصوصی دعائیہ اور قرآن خوانی کی مجالس آراستہ ہوئیں جن میںمجموعی طور لوگوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ اسکے علاوہ قصبہ کے مزار شہداءپر دن بھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حاضری دی اور وہاں علی الصبح سے ہی شروع ہونے والااجتماعی فاتحہ خوانی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ اس دوران ان علاقوں میں بھی تعزیتی تقاریب منعقد ہوئیں جہاں کے رہنے والے لوگ سانحہ میں جاں بحق ہوگئے تھے۔انکے گھروں میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ صبح سے ہی جاری رہا اور انکے حق میں کلمات ادا کئے جبکہ مساجد میں ایمہ اور خطباءنے جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔
صورتحال دن بھر مجموعی طور پر امن رہی۔واضح رہے کہ 1990آج ہی کے روز ہندوارہ قصبہ میں سرحدی حفاظتی فورس نے آگ و آہن کی ہولی کھیلتے ہوئے بے گناہ شہریوںکو گولیو ں سے بھون جس کے نتیجے میں22افراد جاں بحق اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے ۔اُن دنوں وادی بھر میں آزادی کے حق میں جلسے اور جلوس منعقد کئے جارہے تھے۔ہندوارہ میں بھی ایک جلسہ عام منعقد ہوناطے تھا اور اس میں شرکت کرنے کے لئے لوگ ہندوارہ قصبہ میں ابھی جمع ہی ہورہے تھے کہ سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف)کی ایک گا ڑی دوپہر کا کھانا لیکر قصبہ میں داخل ہوئی تاکہ وہا ں پر تعینات اہلکارو ں کو کھانا فراہم کیا جائے۔
عینی شاہدین کے مطابق جونہی مذکورہ گاڑی ہندوارہ مین چوک میں پہنچ گئی تو وہا ں عوام کاجم غفیر ہونے کی وجہ سے لوگوں کوگاڑی کو راستہ دینے میں کچھ وقت لگا ۔ اسی اثناءمیں سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکارو ں نے جلوس میں شامل نو جوان سے تلخ کلامی کی جس کے بعد نو بت ہاتھا پائی تک پہنچی اور اہلکار گاڑی سے اتر کر نو جوانو ں کا زدو کوب کرنے لگے۔ لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے گاڑی پر دھاوا بول دیا اور گاڑی کی تو ڑ پھو ڑ کی۔
عینی شاہدین کے مطابق سرحدی حفا ظتی فورس اہلکار طیش میں آکر گاڑی میں سوار ہوئے اور بھاگنے لگے،پھر ہر طرف بندقوں کے دھانے کھول دئے گئے اور ہر گلی ،ہر نکڑ ،ہر چوراہے اور ہر سڑک پر گولیو ں سے آگ برسنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سڑکو ں اور گلی کوچو ں میں لاشوں کے انبار لگ گئے ۔اس قیامت خیز واقعہ کے بعد وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ ہندوارہ میں لوگو ں نے کئی روز تک احتجاج اور ہڑتال کی جس کے بعد پولیس تھانہ ہندوارہ میں ملوث اہلکارو ں کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 01/1990زیر دفعات307,151153اور407آر پی سی درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی جو آج تک بھی مکمل نہیں ہوئی۔
