سرحدی کشیدگی اور انسانی جانوں کے اتلاف پر گیلانی کو تشویش

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:حریت”گ“ کے چیرمین سید علی گیلانی نے لائن آف کنٹرول پر جاری گولہ باری اور اس کے نتیجے میں دونوں طرف ہورہی انسانی زندگیوں کے اتلاف پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ کا خطرہ بدستور قائم رہے گا اور دونوں ممالک کے ایٹمی پاور ہونے کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی تباہ کُن اور خطرناک ثابت ہوگی، جو پوری دنیا کے امن وامان کو تہہ و بالا کرکے رکھے گی۔موصولہ بیان میں گیلانی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول لائین پر کشیدگی جاری رکھ کر کشمیر مسئلے کی اصل حقیقت کو پسِ منظر میں دھکیلا جارہا ہے تاکہ اس کو ایک سرحدی تنازعے کے طور پر پیش کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرکے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس اور رنج وغم کا اظہار کیا کہ گولہ باری کے نتیجے میں دونوں طرف سے انسانی جانوں کا ہی زیاں ہوتا ہے چاہے وہ نہتے عام انسان ہوں یا فوجی اہلکار، یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ گئی ہیں۔ حریت چیرمین نے اس بات کی وضاحت کی کہ کشمیری عوام 1947ءسے بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جس کو بھارت طاقت سے دبانا چاہتا ہے اور مقامی تحریک ہونے کے باوجود اس کو ”سرحد پار دراندازی“ کا رنگ دے رہا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ کشمیر دراندازی کا مسئلہ ہے اور نہ یہ کوئی سرحدی تنازعہ ہے، بلکہ یہ ڈیڑھ کروڑ عوام کی حق خودارادیت کے لےے جاری جدوجہد ہے اور اس قسم کے حالات پیدا کرکے اس کو سرحدی تنازعہ کے طور پر پیش کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان پر تبصرہ کرتے کہا کہ بھارت طاقت کے زعم میں اور چودھراہٹ کے نشے میں اس خطے کے ممالک کو مرعوب کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان کو بھی سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں ،ایک معمولی چنگاری ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔گیلانی نے واضح کیا کہ اپنے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے سے بہتر یہ ہے کہ بھارت خطے میں موجود تناﺅ کو ختم کرنے کے لئے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرے ۔ انہوں نے کے ایم این کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور اسے طاقت کی بنیاد پر دھمکیوں سے حل کرنے کے بجائے بھلائی اسی میں ہے کہ اسے عوامی خواہشات اور لوگوں سے کئے گئے وعدﺅں کو پورا کرکے حل کیا جائے ۔گیلانی نے وزیر داخلہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بھارت ،پاکستان کو جہاں طاقت کی بنیادوں پر ختم کرنے کی بات کررہا ہے ،وہی پاکستان کو کمزور کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لئے سازشیں بھی رچا رہا ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے بھارتی حکام کو مشورہ دیا کہ وہ طاقت کے مظاہرے یا دھمکیوں کا سہارا لئے بغیر حقیقت پسندی کا ادارک کرے اور سبھی آپسی مسائل کے حل کے لئے راہیں تلاش کریں ۔ مسئلہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان موجود تمام مسائل کی اصل جڑ قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان آج تک تین جنگیں لڑی گئی ہیں اور مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا گیا تو ایک تباہ کُن جنگ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جس سے ہر چیز بھسم ہوکر رہ جائے گی۔ حریت چیرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ برصغیر ہندوپاک میں تنازعہ کشمیر کی وجہ سے سیاسی غیر یقینیت اور عدمِ استحکام سے اس خطے کے عوام گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں۔ جس کے لیے بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی ہی واحد ذمہ دار ہے، کیونکہ وہ یہاں کے عوام کے بنیادی اور پیدائشی حقوق کو واگزار کرانے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ گیلانی نے کنٹرول لائین پر جاری گولہ باری کو فوری طور پر بند کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کو طاقت سے حل کرانے کا دور گزر چکا ہے، بھارتی حکمران زمینی حقائق کو قبول کرنے کا مادہ اپنے میں پیدا کریں تو کشمیر سمیت سارے مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے