سرینگر: سرحدی قصبہ اوڑی میں نقب زنوں نے دوران شب دو الگ الگ مقامات پر تین دکانوں اور ایک کمپیوٹر انسٹی چیوٹ کا صفایا کرکے لاکھوں روپے مالیت کے موبائیل فون اور دیگر سازوسامان اڑالیا۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کے دوران نامعلوم نقب زنوں نے مین مارکیٹ اوڑی میں دکانوں کے شٹر اور عقبی دیواریں توڑ کر تین دکانوں کے اندرداخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ان میں اشوک کمار کی موبائیل فون اور گھڑیوں، محمد امین میر کی موبائیل فون اور محمد حنیف کی کپڑے کی دکان شامل ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ نقب زن مجموعی طور لاکھوں روپے مالیت کا سامان اڑا لئے گئے ہیں، جن میں موبائیل فون، گھڑیاں اور کپڑا وغیرہ شامل ہے۔صبح کے وقت جب دکاندار معمول کے مطابق اپنی دکانےں کھولنے آئے تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ دکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور بیشتر سامان غائب تھا۔معاملے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی اور پولیس کی ایک ٹیم نے جائے واردات کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ نقب زنوں نے شٹر اور دیوار توڑنے کےلئے آہنی اوزاروں کا استعمال کیا ہے ۔
کے ایم ا ین نمائندے نے بتایا کہ اسی شب کے دوران سلام آباد میں قائم رائل اسکل کمپیوٹر انسٹی چیوٹ کی کھڑکیاں توڑ کر نقب زنی کی واردات انجام دی گئی۔یہاں سے بھی چوروں نے کمپیوٹر اور دیگر آلات اڑالئے ہیں۔نقب زنوں نے انسٹی چیوٹ میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ بھی کی ، تاہم پولیس اس کی فوٹیج کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ پولیس نے دونوں واقعات کے سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بارہمولہ سے فارنسک ماہرین کی ایک ٹیم نے واردات کی جگہوں سے ضروری نمونے حاصل کئے ہیں جن کی سائنسی جانچ کی جارہی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قصبہ میں گزشتہ دو برس سے پیش آرہی چوری کی وارداتوں کے بارے میں کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔تاہم ایس ایچ او اوڑی تبریز احمد خان نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ پولیس سرعت کے ساتھ ان واقعات کی تحقیقات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نقب زنوں کو عنقریب بے نقاب کیا جائے گا۔

