کٹھوعہ:معصوم بچی کے بہیمانہ قتل پر وزیر اعلیٰ برہم

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں :ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ نے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سرکار اِس وحشیانہ واقعہ کی تیزی کے ساتھ تحقیقات کرکے ملوثین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے گی ۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کٹھوعہ میں بکر وال طبقے سے وابستہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا کہ کٹھوعہ میں معصوم بچی کا قتل افسوسناک اور دردناک ہے ۔

انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ’کھٹوعہ میں معصوم بچی آصفہ بانو کے ساتھ پیش آئے دلسوز اور وحشیانہ واقعہ کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ہماری سرکار اس واقعہ کی تیزی سے تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرئے گی۔‘

یاد رہے کہ کٹھوعہ جموں میں آٹھ سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور اغوا کرنے کے بعد بہیمانہ قتل کردیا گیا ۔ ایک ہفتہ بعد معصوم آصفہ بانو کی پُراسرار حالت میں نعش ہیرا نگر کے رسانہ گاﺅں میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی۔معصوم مقتولہ کے لواحقین اور رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور قصور واروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ادھرانسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون ایس ڈی جموال نے کہا ہے کہ واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کٹھوعہ جموں میں معصوم بچی کے مبینہ اغوا اور بہیمانہ قتل کے واقعہ پر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبہ جموں میں اقلیتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس اراکین اسمبلی نے کہا کہ ایک طرف حکومت’‘بیٹی پڑھاﺅ ،بیٹی بچاﺅ ‘ کا نعرہ دی رہی ہے ،دوسری جانب معصوم بچی کا قتل کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کےلئے حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ادھر پارلیمانی امورات کے ریاستی وزیر عبدالرحما ن ویری نے ایوان کو بتایا کہ واقعے کی نسبت خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے