مخلوط حکومت کو ایوانِ اسمبلی میں خفت کا سامنا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں :مخلوط حکومت کو قانون ساز اسمبلی میں بدھ کو اُس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا ،جب حکمران جماعت پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی سونہ وار محمد اشرف میر نے دریائے جہلم کی ڈریجنگ کے حوالے سے ’ہاﺅس کمیٹی ‘ تشکیل دےنے کی مانگ کی ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی سرکار دریائے جہلم کی ڈریجنگ کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں کیو نکہ ڈریجنگ کا کام سوپور اور بارہمولہ کے بجائے سرینگر اور سنگم میں شروع ہو نا چاہئے تھا ۔

تعمیل ارشاد کے نامہ نگار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے جاری بجٹ کی کارروائی بدھ کو قانون ساز اسمبلی میں ٹھیک 10بجے شروع ہوئی ۔نمائندے کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران دریائے جہلم کی ڈریجنگ کی گونج اُس وقت سنائی دی ،جب حکمران جماعت پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی سونہ وار محمد اشرف میر نے ڈریجنگ کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ،جسکی وجہ سے پی ڈی پی کی سربراہی والی مخلوط سرکار ایوان اسمبلی میں خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔

ممبر اسمبلی سونہ وار محمد اشرف میر نے مطالبہ کیا کہ2014تباہ کن سیلاب کے بعد دریائے جہلم میں کی گئی ڈیجنگ کی جانچ کےلئے ’ہاﺅس کمیٹی ‘تشکیل دی جائے ۔حکمران جماعت کے ممبر اسمبلی کے اس مطالبے سے حکومت کا چہرہ سُرخ ہوگیا ،کیو نکہ مطالبہ حکومتی بینچ کی جانب سے کیا گیا ۔

محمد اشرف میر نے کہا ’دریائے جہلم میں جاری ڈریجنگ کام کی حیثیت جاننے کےلئے ہاﺅس کمیٹی تشکیل دی جائے ،کیو نکہ میں وزیر موصوف کے جواب سے مطمئن نہیں ہوں ‘۔ حکمران جماعت پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی نے مزید کہا ‘حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ دریائے جہلم میں ڈیجنگ سوپور اور بارہمولہ میں شروع کی گئی ،لیکن یہ کام سرینگر اور سنگم علاقوں میں شروع ہونا چاہئے تھا ۔

محمد اشرف میر نے کہا ’مجھے خدشہ ہے کہ حکومت اِ س مسئلے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ،در اصل حقیقت یہ ہے کہ ڈریجنگ کا کام کہیں پر بھی نہیں ہورہا ہے ،وزیر موصوف میرے سوال کا رُخ دوسری جانب موڑنے کی کوشش کررہے ہیں ‘

محمد اشراف میر نے کہا ’حکومت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ دریائے جہلم کی ڈیجنگ پر کتنی رقم صرف کی گئی ہے ‘۔دریں اثناءاپوزیشن ممبران علی محمد ساگر اور سی پی آئی (ایم ) لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے محمد اشرف میر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کے حوالے سے ہاﺅس کمیٹی تشکیل دےنی چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس حوالے سے سنجیدہ کارروائی ہونی چاہئے ،حکومتی کا اپرچ نا قابل قبول ہے ۔ان کا کہناتھا کہ حکمران جماعت کے ممبر اسمبلی کے الزامات انتہائی سنگین ہے ‘

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے