قانون ساز اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور واک آﺅٹ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر: قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو بھی اپوزیشن پارٹیوں اور آزاد ممبران نے زوردار ہنگامہ آرائی،نعرے بازی اورحکمران ارکان کے ساتھ بحث و تکرار کے بیچ نئی انتظامی اکائیوں کو فعال نہ بنانے ، صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے ڈائریکٹرکو ہٹانے اور انسٹی چیوٹ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کو لیکر دو بار ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔اس دوران حکمران پی ڈی پی سے وابستہ ایم ایل اے کرناہ راجا منظور بھی ایک سوال کے جواب سے مطمئن نہ ہوکر احتجاج کے بطور ایوان چھوڑ کر چلے گئے۔

جمعرات کو جب اسمبلی میں وقفہ سوالات کا آغاز ہوا تو حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے وابستہ تمام ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر احتجاج کرنے لگے اور انہوں نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی مانگ کی۔این سی کے بعض ممبرا ن نے اپنے ہاتھوں میں چھوٹے بینر اٹھارکھے تھے جن پر ریاست کے مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے نئے انتظامی یونٹوں کو فوری طور متحرک کرنے کے نعرے درج تھے۔اپوزیشن ممبران نے اسپیکر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ حکومت نئی انتظامی اکائیوں کو فعال بنانے میں ناکام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں ان علاقوں کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، لہٰذا اس معاملے پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے۔

تاہم اسپیکر کویندر گپتا نے اس کی اجازت نہیں دی ۔نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی نگروٹہ دیویندر سنگھ رانا کے ہاتھ میں بھی ایک بینر تھا جس پر”نگروٹہ سب ڈویژن اور جندراہ تحصیل کو فعال بناﺅ“ تحریر تھا۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہی نئی انتظامی اکائیوں کو کار آمد بنانے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔

رانا نے بتایا کہ انتظامیہ کو لوگوں کی دہلیز تک لیجانے کے مقصد سے لوگوں کی ضروریات اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے سال2014میںعمر عبداللہ کی قیادت والی سرکار نے نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا تھااور یہی وجہ سے کہ موجودہ سرکار ان یونٹوں کو فعال بنانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں حکومت نے کئی بار وعدہ کیا اور ہر بار اپنا وعدہ توڑ دیاجس کے نتیجے میں یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔انہوں نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ ملازمین کی تعیناتی کے حوالے سے اندرونی بندوبست کرکے تحصیل جندراہ کو کار آمد بنایا جائے۔

اس موقعے پر اگر چہ مال کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے یہ کہتے ہوئے اپوزیشن ممبران کو خاموش کرانے کی کوشش کی کہ ان معاملات پر بات کی جائے گی، لیکن احتجاجی ارکان اس سے مزید مشتعل ہوئے اور ہنگامے و نعرے بازی پر اُتر آئے۔ویری نے مخالف ممبران سے مخاطب ہوکر کہا”آپ ایوان کا وقت ضائع کرنے کی کوشش کررہے ہیں“۔

وزیر کے ان ریمارکس سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران اور غصے میں آگئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اسپیکر کی میز کے سامنے ویل میں آکر احتجاج کرنے لگے۔دویندر رانا نے غصے میں آکر کہا”جس طرح سرکار کام کررہی ہے، آپ ہمیں یہاں ایوان کے اندر نہیں دیکھیں گے، آپ ہمیں اسمبلی میں کسی مسئلے پر بات کیوں نہیں کرنے دیتے، کیا ہمیں ہرصبح ویری صاحب کے پاس جاکر ان سے کسی معاملے پر بات کرنے کی اجازت حاصل کرنی ہے“؟ اسپیکر پر جانبداری اور اپوزیشن کو ہر وقت نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے رانا نے کہا”ہمیں ایک الگ ہال دیجئے اور آپ آپس میں ہی بات کیجئے“۔احتجاج کے دوران ایم ایل اے ہوم شالی بگ عبدالمجید بٹ لارمی نے ان کے حلقہ انتخاب کے قیموہ میں سب ڈویژن آفس کو متحرک کرنے کی مانگ کی۔ ان کے ہاتھ میں بھی ایک بینر تھا اور وہ حکومت سے جواب مانگ رہے تھے۔جب اسپیکر کویندر گپتا نے ان معاملات پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی تو تمام اپوزیشن ممبران پہلے ویل میں آگئے اور نئی انتظامی اکائیوں کو متحرک کرنے کے حق میں زوردار نعرے بازی کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران ہی واپس آنے پر ایک بار پھر نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران احتجاج پر اُتر آئے اور ان کی حمایت میں بعض آزاد ممبران بھی کھڑے ہوئے۔ اس بار حزب اختلاف کی جماعتوں نے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے جی آہنگر کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور انسٹی چیوٹ میں جاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ڈائریکٹر کی برطرفی کی وجہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس اہم طبی ادارے میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم کروانی چاہئے تاکہ مریضوں کو مصائب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دونوں اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاجی ممبران نے اس ضمن میں اسپیکر کی مداخلت طلب کی اورویل میں آکر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے جواب کا مطالبہ کیا تو انسٹی چیوٹ کی چیر پرسن بھی ہیں۔اس موقعے پر حکمران پی ڈی پی کے کچھ ممبران نے بھی ڈائریکٹر کو لائن حاضر کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا تذکرہ بھی کیا۔تاہم اسی بیچ اپوزیشن ارکان نے قریب دس منٹ تک زوردار ہنگامہ اور سرکار مخالف نعرے بازی کے بعد ایک مرتبہ پھر واک آﺅٹ کیا۔سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی اور کچھ آزاد ممبران بھی احتجاج کے بطور ایوان سے چلے گئے۔

جمعرات کو حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار سے وابستہ ایک ممبر نے بھی احتجاجی واک آﺅٹ کیا۔نمائندے کے مطابق پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی کرناہ راجا منظور نے اپنے حلقے میں صحت اور طبی سہولیات کے بارے میں سوال پوچھا تھا تو ایوان کی معمول کی کارروائی میں شامل تھا۔راجا منظور اچانک اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے اور اسپیکر کی توجہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سوال کا جو تحریری جواب دیا گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔اس موقعے پر صحت کے وزیر بالی بھگت نے ایم ایل اے موصوف کو مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن راجا منظور خاموش نہیں ہوئے۔انہوں نے وزیر سے مخاطب ہوکر کہا”آپ لوگ یہاں ہو، میرے لوگ مررہے ہیں، آپ سمجھتے ہی نہیں ہو، آپ کو کوئی پرواہ ہی نہیں!“ کرناہ کے ایم ایل اے نے کہا کہ ان کے حلقہ طبی سہولیات سے محروم ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایوان سے واک آﺅٹ کرکے چلے گئے ۔کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے