واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈپارمنٹ نے دنیا بھر میں خطرے کا جائزہ لے کر اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا جس میں پاکستان کو’سفر کے لیے قابل غور‘قرار دیا جبکہ بھارت میں کرائم اور شدت پسندی کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو ’انتہائی محتاط رویہ اختیار‘کرنے کی ہدایت کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چار درجاتی سیکیورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شدت پسندی اور شرپسندی کی وجہ سے پاکستان کے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے( فاٹا) میں ’سفر سے گریز‘کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سفری ہدایت نامے میں پاکستانی زیر انتظام جموں اور کشمیر اورکشمیر میں ’شدت پسندی اور مسلح تصاد‘ کے پیش نظر امریکی شہری کو جانے سے منع کیا ہے۔پاکستانی اخبار ڈان اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی الرٹ میں امریکا کی جانب سے سیکیورٹی مشیر رکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیر کو ’سفر مت کریں‘کی کیٹیگری میں ڈالا گیا ہے جہاں ’بدامنی‘ ہے جبکہ پاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ سے بھی علاقے میں خطرہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے لیے سفری مشیر نے بتایا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے مذموم سرگرمیاں جاری ہیں اور شدت پسندی کے بیشتر واقعات سے قبل کوئی الرٹ جاری نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ شدت پسندسیاحتی مقام، ٹرانسپورٹ اڈے، شاپنگ پلازہ، سرکاری و نیم سرکاری اداروں، ہوائی اڈوں سمیت تعلیمی و طبی مراکز پر حملہ کرتے ہیں‘۔سفری مشیرنے واضح کیا کہ امریکا کے پاس سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان میں اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی انتظامات مہیا کرنے کے صلاحیت محدود ہے۔
امریکی سرکاری ملازمین کو بھی پاکستان میں آزادنہ طور پر سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ امریکی سفارتخانے سے باہر سفارتی عملہ بھی انتہائی سیکیورٹی کے تحت امور نمٹائیں گے۔مشیر کے مطابق ’ شدت پسندوں نے ماضی میں بھی امریکی سفارتخانوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا اور شواہد سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ممنکہ طور پر آئندہ بھی ایسی کارروائیاں کر سکتے ہیں‘۔

