نوجوان کی ہلاکت: 13 جنوری کو مکمل احتجاجی ہڑتال کی جائے :مشترکہ مزاحمتی قیادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کھڈ ونی کولگام میں فورسز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف 13جنوری کو مکمل احتجاجی ہڑتال کی کال دےتے ہوئے کہا ہے کہ کشمےر کو ایک بدترین قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کی بھی جان و مال یا عزت آبرو محفوظ و مامون نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کھڈونی کولگام میںفواج اورپولیس و فورسز نے عوام الناس پر جس وحشیانہ انداز میں گولیاں‘ پیلٹ اور شیل داغے اور سیکڑوں لوگوں کو مجروح و مضروب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم کو جاں بحق بھی کیا‘ وہ سرکاری دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں کہلاسکتا۔

مزاحمتی قیات کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے فورسز کے ہاتھوں جاری کشمیری جوانوں کے قتل عام کو بدترین نسل کشی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی استعمار نے اپنی افواج، فورسز اور پولیس کے ذریعے کشمیری جوانوں کا صفایا کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے اور ہر روز کشمیریوں کو انکے معصوم لخت جگروں کی لاشیں تھماکرزچ کیا جارہا ہے۔

بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر جاری یہ قتل عام دراصل کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ ہے جسے بھارتی افواج ، فورسز اور پولیس مواخذے کے کسی خوف کے بغیر انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روزکھڈونی اِسلام آباد میں اپنے ایک لخت جگر شہید محمدفرحان کی جسد خاکی پر ماتم کرنے والے سوگواروں پر جس بے ہنگم انداز میں بھارتی فوج و فورسز نے پیلٹ، گولیوں،شیلوں اور لاٹھیوں کی بمباری کی اور درجنوں لوگوں کو مجروح و مضروب کردینے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم جوان خالد احمد ڈارکو شہید کیا وہ جاری و ساری سرکاری دہشت گردی کا وہ سلسلہ ہے جس کے تحت کشمیریوں کو اپنے لخت جگروں کی لاشیں تھماکر اُن کی جوان نسل کا صفایا کرنامقصود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خون کے خوگر بھارتی افواج ہوں یا سفاک فورسز اہلکار یا ظلم کی کلہاڑی کا دستہ بنی ہوئی پولیس ‘ سبھی کا واحد کام کشمیریوں کو قتل کرنا بن چکا ہے کیونکہ ان فورسز اور افواج کو نہ ہی مواخذے کا کوئی خوف ہے اور نہ کسی اخلاقی حد کی کوئی فکر لاحق ہے۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ کشمیرمیں جتنے بھی لوگ ۷۴۹۱ءسے ابتک بھارتی فوجیوں، فورسز، پولیس اور ایجنسیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں اُن کے قتل میں جہاں بھارتی قابض افواج و فورسز کا ہاتھ ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی وہیں پر اس کی ذمہ داری براہ راست جموں کشمیر میں موجود بھارت نوازوں ، اسمبلی ممبران اور حکمرانوں کے سر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہی لوگ اس قتل عام کو قانونی جواز اور قتل عام میں ملوث درندوں کو قانونی تحفظ فراہم کرکے شریک جرم ہوتے رہتے ہیں۔

بیان کے مطابق مشترکہ قائدین نے کہا کہ ظلم و جبر حد سے گزر جائے تو اس کا خاتمہ لازمی بن جاتا ہے اور اسی اَبدی قانون کے تحت بھارت کا یہ ظلم بھی فنا ہوکر رہے گا ۔ ان شاءاللہ ۔مشترکہ قائدین نے کہا کہ ظلم و جبر و تعدی کوٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا زندہ و جاوید اقوام کےلئے ناممکن ہوا کرتا ہے اور کشمیر میں جاری بھارتی جبر اور قتل عام بھی اب برداشت سے باہر ہوتاجارہا ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک طرف تو یہ قتل عام جاری ہے اور جوانوں کو بے دریغ قتل کیا جارہا ہے اور دوسری جانب عالمی برادری اس پر خاموش تماشائی بن کر چپ سادھے ہوئے ہے۔ دراصل عالمی برادری بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی و معاشی مفادات کے تحفظ کےلئے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش ہے جو نہ صرف یہ کہ انسانیت سوز ہے بلکہ امن عالم اور بقائے باہمی کے مسلمہ اصولوںکی بیخ کنی بھی ہے۔

قائدین نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ تجارتی مفادات کےلئے انسانی اقدار کی بیخ کنی کا اپنا رویہ تبدیل کریں اور کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف اپنی بند زبانیں کھول کر اس قتل عام کو روکنے کی سعی کریں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد حکمرانوں نے کشمیر کے اندر ہر قسم کی سیاسی مکانیت کو مسدود کرکے ہمارے احتجاج کے دائرے بھی سمیٹ رکھا ہے اور کشمیر کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کرکے یہاںہر قسم کی سیاسی کاوشوں کو پابند کررکھا ہے۔ بایں وجہ کشمیری اپنا احتجاج درج کرانے کےلئے ہڑتال کرنے پر ہی مجبور ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بھارتی افواج کے ہاتھوں جاری قتل عام کی موجودہ لہر کے خلاف سنیچر وار‘مورخہ 13جنوری 2018ئ‘ کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی جائے گی تاکہ بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا پر بھی واضح کیا جاسکے کہ کشمیری اس ظلم و جبر اور قتل عام کے باوجود اپنی تحریک مزاحمت سے باز نہیں آسکتے اور یہ تحریک حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی ۔

۔ قائدین نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ کھڈونی میں شہید کئے گئے معصوم خالد احمد ڈار اور وادی بھر میں جاری نسل کشی ،کریک ڈاﺅن ،مار پیٹ، جوانوں،بزرگوں،بچوں اور خواتین کے خلاف جاری وحشیانہ تشدد کے خلاف سنیچر وار مورخہ 13 جنوری2018ء‘ کے روز اپنے کاروبار، دفاتر،ٹرانسپورٹ اور دوسری سرگرمیاں معطل رکھیں اور اپنے بھرپور نیز ہمہ گیر احتجاج سے جاری جبر و تشدد کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کریں اور عالمی برادری پر باور کریں کہ اس قتل عام اور سرکاری جبر و تشدد کے خلاف اُس کی خاموشی بہر صورت مجرمانہ ہی کہلاسکتی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے