سرینگر:قانون ساز اسمبلی میں بجلی سپلائی کی ابتر صورتحال کو لیکر زوردار ہنگامہ آرائی کے بیچ اپوزیشن ممبران کے ساتھ ساتھ حکمران پی ڈی پی کے ایک ممبر نے بھی بجلی کے وزیر ڈاکٹر نرمل سنگھ کی خوب خبر لی جس کے بعد وزیر کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کئی ممبران نے احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔
اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ جو بجلی کے وزیر بھی ہیں، پی ڈی ایف چیرمین اور ایم ایل اے خانصاحب حکیم محمد یاسین کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے تو حزب اختلاف کے کئی ارکان اچانک اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور ریاست میں بجلی کی بحرانی صورتحال کو لیکر حکومت کو آڑے ہاتھوںلیا۔
انہوں نے حکومت پر بجلی کی بہتر سپلائی کو یقینی بنانے میں مکمل طور ناکام ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ریاست بھر کے صارفین بجلی سرکار سے نالاں ہیں۔اپوزیشن پارٹیوں کے جن ممبران نے اپنے اپنے علاقوں او ر ریاست میں مجموعی طور بجلی کی ابتر صورتحال کے معاملے پر ایوان میں احتجاج کیا ، ان میں نیشنل کانفرنس کے دویندر سنگھ رانا، عبدالمجید بٹ لارمی، شیخ اشفاق جبار ، الطاف احمد کلو اور کانگریس کے وقار رسول قابل ذکر ہیں۔اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران پیپلزڈ یموکریٹک پارٹی سے و ابستہ ایم ایل اے رفیع آباد یاور دلاور میر نے بھی اپنے حلقہ انتخاب میں بجلی بحران کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی سپلائی تو دور ، اس کا بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے کےلئے بھی کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ سردی کے ایام میں سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مرکزی اسکیموں کے بھی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں اور بجلی سپلائی کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔
اس موقعے پر قریب درجن بھر ممبران اسمبلی نے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کو گھیر لیا اور ان سے بجلی کے بارے میں ضمنی سوالات پوچھے جبکہ کئی دیگر ممبران کو شور شرابے کے دوران سوالات پوچھنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔این سی اور کانگریس کے کئی ممبران سوال پوچھتے پوچھتے ایوان کے بیچوں بیچ اسپیکر کی میز کے سامنے آئے اور غصے میں آکر ایوان کی کارروائی سے متعلق سوالنامے پھاڑ کر پھینک دئے۔اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا نے احتجاجی ممبران سے یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر نرمل سنگھ دفاع کرنے لگے کہ ایک سوال کے بارے میں صرف تین ضمنی سوالات پوچھنے کی اجازت ہے۔
کویندر گپتا کی طرف سے اپوزیشن ممبران کو خاموش کرانے کی کئی کوششیں ناکام ہوگئیں۔پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کو جواب دینے کا موقعہ دیا جس کے بعد ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ بجلی کی قلت 70سال پرانی نا قص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اس کےلئے سابقہ سرکاروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار ا ن خامیوں کو دور کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔وزیر موصوف کے ان ریمارکس سے ایوان میں کانگریس کے لیڈر نوانگ رگزن جورا، سابق وزیر جی ایم سروری اور نیشنل کانفرنس کے دیویندر سنگھ رانانے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
جی ایم سروری نے نائب وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہوکر کہا”نائب وزیر اعلیٰ پچھلے تین سال سے محکمہ بجلی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا ہے“۔وزیر موصوف نے جواب میں کہا”سال2018میں بجلی کی صورتحال بہتر ہوگی“۔شوروغل کے بیچ ہی وزیر کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عبدالمجید لارمی، وقار رسول، الطاف کلو اور شیخ اشفاق جبار احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے۔(کے ایم این )

