47اور 71کی ہندو پاک جنگ کے بعد ہجرت کرنے والے مہاجرین وزیر اعظم پیکیج کے تحت منظور شدہ فنڈ سے محروم ، جموںمیں کیا احتجاج

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Silhouette group of people Raised Fist and Protest Signs in yellow evening sky background

سرینگر/30مارچ/سی این آئی// پاکستان زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین نے آج جموں پریس کلب میں احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پیکیج کے تحت منظورکردہ فنڈ کے بقیہ کی فوری واگزار کے حق میں حتجاج کرتے ہوئے مرکزی سرکار اور یوٹی ایل جی انتظامیہ سے اس معاملے میں توجہ دینے کی اپیل کی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پاکستانی زیر انتظام علاقے سے1947اور 1971کی جنگ کے بعدہجرت کرکے جموں آنے والے ہندو مہاجرین نے منگل کے روز احتجاج کیا۔ احتجاجی مہاجرین نے کہا کہ پاک زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نے اپنی زمین جائیداد وہیں چھوڑ دی تھیں اور وزیر اعظم نریندر مودی والی سرکار نے ان مہاجرین کی باز آباد کاری کیلئے 2ہزار کروڑ روپے فنڈ منظور کئے تاہم اس فنڈ کا 70فیصدی متاثرین کو دیا گیا جبکہ ابھی بھی 47لاکھ روپے واجب الادا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سرکاری طوالت اور دستاویزات کی چھان بین میں سرکاری ملازمین لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے متاثرین معاوضہ سے محروم ہیں ۔ احتجاجی مہاجرین نے مرکزی سرکار اور یوٹی انتظامیہ سے اس بارے میںا پیل کی ہے کہ وہ متاثرین کو واجب الادا رقم فراہم کرنے کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت دیں تاکہ انہیںدرپیش مشکلات سے نجات ملے ۔

Share This Article