ویڈیو: ایوان ِ اسمبلی میں شہری ہلاکتوں کی گونج

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

سرینگر:قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں انسانی حقوق، شہری ہلاکتوں، امن و قانون، بجلی بحران اور بد انتظامی کے معاملات کو لیکر اپوزیشن پارٹیوں نے زبردست ہنگامہ آرائی، زوردار نعرے بازی ، احتجاجی واک آﺅٹ اور پورے دن کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ۔

دونوں ایوانوں میںحسب سابقہ حکمران اوراپوزیشن سے وابستہ ممبران کے درمیان نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی ۔کے ا یم ا ین نمائندے کے مطابق ریاستی قانون سازیہ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے روز ایوان زیریں میںغیر معمولی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا دیکھنے کو ملا۔

حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ساتھ ساتھ کئی آزاد ممبران نے کئی مدعوں کے ساتھ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط سرکار کو گھیرنے کی کوشش شروع کی۔اسمبلی میں بدھ کو اگر چہ گورنر کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطبے پر بحث ہونی تھی لیکن اجلاس صبح دس بجے جونہی شروع ہوا تو نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبران کے ساتھ ساتھ سی پی آئی ایم کے ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی، ایم ایل اے لنگیٹ انجینئررشید اور پی ڈی ایف چیرمین و ایم ایل اے خانصاحب حکیم محمد یاسین بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور اسپیکر سے وقفہ سوالات کو التواءمیں ڈال کر گزشتہ برس کے دوران وادی میں ہوئی شہری ہلاکتوں پر بحث کرانے کی درخواست کی۔

اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس اور ممبر اسمبلی لنگیٹ نے انسانی حقوق و شہری ہلاکتوں، کانگریس نے امن و قانون کی صورتحال اور محمد یوسف تاریگامی نے بجلی کے بحران کو لیکر الگ الگ تحاریک التواءپیش کی تھیں جس پر بحث کرانے کے حق میں انہوں نے حکومت مخالف نعر ے بازی شروع کی۔اپوزیشن ممبران نے ایوان کی کارروائی شروع نہیں ہونے دی اور زبردست ہنگامہ کھڑا کرتے ہوئے”انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرو، ظالمو ہوش میں آﺅ، کشمیریوں کا قتل عام بند کرو“ کے نعرے بلند کئے۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر علی محمد ساگرنے اسپیکر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ معمول کی کارروائی کے بجائے شہری ہلاکتوں بحث کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو شہری ہلاکتوں اور ملی ٹینسی میں اضافے کے معاملات پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔ساگر نے زور دیکر کہا”ہماری ریاست کو ہلاکتوں پر بحث کرنی چاہئے ، پولیس حکام دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے ملی ٹینسی کی کمر توڑ دی ہے اور اسی دوران وادی میں فدائین حملہ کیا جاتا ہے، پولیس غلط بیانی سے کام لیکر حکومت کو بھی گمراہ کررہی ہے“۔انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ انسانی حقو ق پر بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی ہے۔

انہوں نے ٹریجری بنچوں پر بیٹھے ممبران سے مخاطب ہوکر کہا”جب آپ اپوزیشن میں تھے تو ہم آپ کو بات کرنے دیتے تھے لیکن آپ ہمیں بولنے کیوں نہیں دیتے“؟ساگر کے ساتھ ساتھ پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی بھی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر احتجاج کررہے تھے۔پارٹی کے ایک اور لیڈر عبدالمجید بٹ لارمی نے اپنے ہاتھوں میں پیلٹ سے متاثرہ لڑکی انشاءکی تصویر اٹھارکھی تھی اور وہ بھی حقوق البشر پر بحث کرانے پر زور دے رہے تھے۔

ایوان میں کانگریس کے لیڈر نوانگ رگزن جورا نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے ایوان میں بقول ان کے امن و قانون کی بگڑتی صورتحال پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر جی ایم سروری نے شہری ہلاکتوں اور دیگر معاملات پر بحث کےلئے ایک گھنٹہ مختص کرنے پر زور دیا۔انہوں نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا”آپ صرف بی جے پی کے اسپیکر نہیں ہیں،آپ اپوزیشن کے اسپیکر بھی ہیں“۔نیشنل کانفرنس کے دیویندر سنگھ رانا نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسپیکر کویندر گپتا تمام اپوزیشن ممبران سے خاموش بیٹھے رہنے کی اپیل کرتے رہے اور انہوں نے وقفہ سوالات کے بعدتحرک التواءپر بحث کی حامی بھی بھری ، لیکن احتجاجی ممبران پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوااور وہ زوردار ہنگامہ آرائی کے بیچ نعرے بازی کرتے رہے جس کے نتیجے میں ایوان میں معمول کی کارروائی ممکن نہیں ہوسکی۔

اسی دوران سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی نے اسپیکر سے کہا”ایوان میں شہری ہلاکتوں اور بد انتظامی کے بارے میں بحث کی جانی چاہئے، یہ معاملات ایوان سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر بحث ہونی ہی چاہئے“۔تاہم اسپیکر نے اس کی اجازت دینے سے انکار کیا جس کے بعد علی محمد ساگر، محمد شفیع اوڑی، شیخ اشفاق جبار، عثمان مجید، عبدالمجید لارمی، جی ایم سروری، جاوید احمد رانا،دویندر سنگھ رانا، محمد اکبر لون، مبارک گل، الطاف احمد کلو، میاں الطاف احمد، نوانگ رگزن جورا، وقار رسول اور دونوں پارٹیوں سے وابستہ دیگر ممبران اسپیکر کی میز کے سامنے ایوان کے بیچوں بیچ آگئے ۔

اس موقعے پر اپوزیشن ممبران اُس وقت آگ بگولہ ہوگئے جب پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے حزب اختلاف پر الزام عائد کیا کہ وہ ایوان کا وقت ضائع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا”پچھلے اجلاس میں معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بحث کی اجازت دی گئی تھی لیکن آج کوئی مسئلہ نہیں ہے جس پر بات کی جائے،اپوزیشن ارکان ایوان کا وقت ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی مسئلہ نہیں ہے“۔ویری کے اس بیان کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے تمام ممبران نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے ۔حالانکہ بعد میں انہیں ایوان میں تحاریک التواءپر بحث کرانے کا یقین دلاکر واپس بلانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ایوان کے اندر نہیں آئے ۔ان کی غیر موجودگی میں محمد یوسف تاریگامی اور حکیم محمد یاسین نے بھی حکومت سے اپوزیشن کو منانے کی درخواست کی۔اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی نے بھی پارلیمانی امور کے وزیر سے اسی طرح کی درخواست کی لیکن ویری کی اپیل کے باوجود اپوزیشن ممبران ایوان سے غیر حاضر رہے اور پورے دن کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

قانون ساز کونسل میں بھی کارروائی کا آغاز ہنگامہ آرائی کے ساتھ ہوا۔جونہی کارروائی شروع ہوئی تو این سی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے ممبران بھی احتجاج کرتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور شہری ہلاکتوں ، انسانی حقوق اور امن و قانون کی صورتحا پر بحث کرانے کی مانگ کی ۔ احتجاجی ممبران نے حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی اور ہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔یہاں اپوزیشن ممبران نے ہلاکتوں کےلئے موجودہ مخلوط سرکار کو مورد الزام ٹھہرایااوراس معاملے کو لیکر مخالف ممبران کے مابین نوک جھونک بھی ہوئی۔(بشکریہ کے ایم این)

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے