ملک کی سیکورٹی اور سالمیت پر سمجھوتہ نا ممکن ، بھارت کمزور ملک نہیں /راجناتھ سنگھ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

تمام ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی مذاکرات کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا

سرینگر/05مارچ: ملک کی سیکورٹی اور سالمیت کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دورہ گجرات کے دوران کمانڈرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی سیکورٹی اور دفاعی تیاریوںکو ایک مرتبہ پھر سے جائیزہ لیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ہمسایہ ممالک بھارت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ایسی کسی بھی کارورائیوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا ۔ راجناتھ نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا چین ہو سبھی ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی بات چیت کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اور تشدد ایک ساتھ چل نہیں سکتے اور نہ ہی مذاکرات تشدد آمیز ماحول میں کئے جاسکتے ہیں ۔مرکزی وزیرنے کہا کہ بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تب بھی ہم صبر سے کا م لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا بھارت ایسے کاموں میں سنجیدہ ہے کہ مسائل کو ایڈریس کیا جائے کیونکہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات کو جارے رکھنے کیلئے تیار ہیں ۔پڑوسی ممالک سے بھی مثبت ردعمل ملنا لازمی ہے ۔بھارت پاکستان کے ساتھ بھی ایک نئے دور کا آغاز چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کو نہایت ہی نیک نیتی اور سنجیدگی سے قدم اٹھانے ہونگے مزید ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سورتحال کو بہتر بنانے کیلئے پہلے بات چیت کو راستے کو ہی اپنایا جائے تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے۔

Share This Article