دو جنوری سے شروع ہوگا بجٹ اجلاس،بجٹ مستحکم ہوگا:داربو

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں: 2جنوری سے شروع ہونے والابجٹ اجلاس ہنگامہ خیزثابت ہوسکتاہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے مختلف معاملات ومسائل کولیکرمخلوط سرکارکوگھیرنے کی حکمت عملی مرتب کی ہے ۔اس دوران نیشنل کانفرنس اورکانگریس نے بتایاکہ مخلوط سرکارسے ہربات کاجواب طلب کیاجائیگااوریہ ضرورپوچھے جائے گاکہ اگرضمنی پارلیمانی چناؤکوملتوی کیاگیاتوکس منطق کے تحت اب فروری سے پنچایتی انتخابات کروانے کابگل بجادیاگیا۔اس دوران معلوم ہواکہ ریاستی گورنرمنگل کی صبح اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران مجموعی امن وقانون کی صورتحال اورمذاکرات کارکی تقرری کاتذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ سرکارکی ترجیحات اورابتک اُٹھائے گئے اقدامات کاخلاصہ بھی کریں گے ۔اُدھرمعلوم ہواکہ 11جنوری کووزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابوقانون سازاسمبلی میں نئے سال یعنی2018-19 کیلئے سالانہ میزانیہ پیش کریں گے جسکاحجم 80ہزارکروڑروپے سے لیکر85 ہزار کروڑروپے تک ہوسکتاہے ۔اس دوران ڈاکٹردرابونے ریاست کی اقتصادی ترقی کی شرح نمولگ بھگ7فیصدتک پہنچنے کادعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگلے مالی برس کیلئے آمد ن واخراجات کابجٹ ایک اعشاریہ5لاکھ کروڑہوسکتاہے۔ریاستی وزیرخزانہ نے حالیہ برسوں کے دوران باغبانی اورتجارت کے شعبوں میں مثبت ترقی کارُجحان کاذکرکرتے ہوئے اسبات کااعتراف کیاہے کہ سیاحت اورصنعت کے شعبوں میں کم ترقی پائی گئی ۔

سرمائی راجدھانی جموں میں 2جنوری بروزمنگل وارسے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے سلسلے میں متعلقہ سیکرٹریٹ نے سوموارکواپنی تمام تیاریوں کوحتمی شکل دی جبکہ اسپیکرکویندرگپتااورچیئرمین کونسل نے متعلقہ افسروں ومنتظمین سے بجٹ اجلاس کے احسن انعقادکے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔اس دوران لگ بھگ ایک ماہ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پیش نظرضروری سیکورٹی اقدامات کابھی متعلقہ پولیس حکام نے سوموارکوجائزہ لیا،اوراسکے ساتھ ساتھ جموں شہرکیلئے اگلے ایک ماہ کیلئے ٹریفک کے نظم ونسق اورروٹ پلاننگ کوبھی حتمی شکل دی گئی ۔

معلوم ہواکہ منگل کوصبح ریاستی گورنراین این ووہرااسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں ،جس دوران گورنرموصوف ریاستی سرکارکی ترجیحات اورابتک تک اُٹھائے گئے اقدامات کے ساتھ ساتھ ماہ فروری میں پنچایتی اوراسکے بعدریاست میں بلدیاتی انتخابات کرائے جانے کابھی باضابطہ پروگرام سامنے رکھیں گے ۔گورنر کے خطبہ میں ہزاروں عارضی ملازمین کی باقاعدگی اورمختلف نوعیت کے ترقیاتی وتعمیراتی اقدامات کے علاوہ مرکزکی جانب سے جموں وکشمیرکیلئے مذاکراتکارکی نامزدگی کامعاملہ بھی شامل ہوگاجبکہ سرحدی صورتحال کابھی گورنرکی تقریرمیں ذکرہوسکتاہے ۔

تاہم مشترکہ اجلاس سے گورنرکے خطاب کے دوران اپوزیشن ممبران کی جانب سے شورشرابہ کئے جانے کاامکان ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس ،کانگریس ،سی پی آئی ایم ،اے آئی پی اوردیگرجماعتوں نے پہلے ہی کہاہے کہ وہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت کوکئی معاملات پرسوالات کے کٹہرے میں کھڑاکریں گی ۔بتایاجاتاہے کہ اپوزیشن ممبران قانون سازیہ جن معاملات پراسمبلی کے دونوں ایوانوں کوہنگامہ خیزبنانے کاارادہ رکھتے ہیں ،اُن میں اننت ناگ پارلیمانی نشست کے ضمنی چناؤ کوملتوی کرنے کے بعدریاست میں پنچایتی الیکشن ماہ فروری 2018سے کرانے کااعلان ،مختلف سرکاری محکموں میں تعینات ساٹھ ہزارعارضی ملازمین کی ملازمتوں کوباقاعدہ بنائے جانے سے متعلق سرکارکااعلان ،کشمیروادی میں سال رفتہ کے دوران ہوئی ہلاکتوں ،مزاحمتی لیڈران کیخلاف جاری سخت روی ،کشمیروادی میں موسم سرماکی آمدکے بعدبجلی بحران ،اسپتالوں میں داکٹروں کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں ۔

معلوم ہواکہ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اورسابق وزیرجی اے میرکی قیادت میں این سی اورکانگریس کے ممبران قانون سازیہ کی الگ الگ میٹنگوں میں دونوں اہم اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپنائی جانے والی حکمت عملی اوردونوں ایوانوں میں اُٹھائے جانے والے مختلف معاملات کوحتمی شکل بھی دی ۔دونوں جماعتوں کے زرائع نے بتایاکہ مخلوط سرکارسے ہربات کاجواب طلب کیاجائیگااوریہ ضرورپوچھے جائے گاکہ اگرضمنی پارلیمانی چناؤکوملتوی کیاگیاتوکس منطق کے تحت اب فروری سے پنچایتی انتخابات کروانے کابگل بجادیاگیا۔انہوں نے کہاکہ راتوں رات سیکورٹی صورتحال کیسے بہترہوگئی جوسرکارنے پنچایتی الیکشن کروانے کافیصلہ لیا۔کے این ایس کومعلوم ہواکہ 11جنوری کووزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابواسمبلی میں نئے سال یعنی2018-1 9 کیلئے سالانہ میزانیہ پیش کریں گے جسکاحجم 80ہزارکروڑروپے سے لیکر85 ہزار کروڑروپے تک ہوسکتاہے ۔ ریاستی وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابو11جنوری 2018کوریاستی اسمبلی میں مالی سال2018-19کیلئے جوسالانہ بجٹ یامیزانیہ پیش کرنے والے ہیں ،اُس کوحتمی شکل دی گئی ہے ۔

بتایاجاتاہے کہ نئے سالانہ بجٹ کی مالیت 80ہزارکروڑروپے سے لیکر85 ہزار کروڑروپے تک ہوگی ،اوریہ موجودہ وزیرخزانہ کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیاجانے والامتواترچوتھابجٹ ہوگاجبکہ اگلے مالی سال کیلئے آمدن اوراخراجات کابجٹ ایک اعشاریہ5لاکھ کروڑہوسکتاہے۔ڈاکٹردرابونے جی ایس ٹی کے اطلاق کے باوجودریاستی سرکارکی آمدن میں اضافہ ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ اب ریاستی سرکاراوراسکے ماتحت محکموں کی آمدن اوراخراجات میں کافی حدتک توازن پیداہوچکاہے ۔تاہم انہوں نے محکمانہ سطح پرمالی نگہداشت میں ہنوزخامیاں اورکمزوریاں موجودہونے کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ابتدائی تین سہ ماہیوں کے دوران31دسمبر2017تک مختلف تعمیراتی ،ترقیاتی اورفلاحی پروجیکٹوں کیلئے مختص رقومات کا75فیصدصرف کیاجائیگا،اورباقی رقومات کوزیرتصرف لانے کیلئے حکام کویکم جنوری سے 31مارچ 2018تک کی ڈیڈلائن دی گئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مختلف اسکیموں اورپروجیکٹوں کیلئے مختص رقومات کے غلط استعمال کی شکایات بھی ملی ہیں اوراس کاسدباب کرنے کیلئے ایک جامع اوردوررس پالیسی مرتب کی جارہی ہے ۔وزیرخزانہ نے بتایاکہ اگرمختص فنڈس کامقررہ وقت کے اندرصحیح صحیح استعمال کیاجاتاہے تونہ صرف عام آدمی کوراحت پہنچے گی بلکہ ریاست ترقی کی راہ پربھی کامیابی کیساتھ اپناسفرجاری رکھ پائی گی۔ڈاکٹردرابوکے حوالے سے ایک نیوزرپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ لکھن پور چیک پوسٹ پرلیاجاناوالا2فیصدٹول ٹیکس جی ایس ٹی میں شامل یاضم نہیں کیاگیاہے ۔تاہم انہوں نے اسبات کااعتراف کیاہے کہ ابھی تک قالین صنعت سے جڑے جی ایس ٹی مسائل ومشکلات کوحل نہیں کیاگیاہے۔

وزیرخزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں جموں وکشمیرمیں نوٹ بندی کازیادہ منفی اثراقتصادی اورترقیاتی سرگرمیوں نہیں پڑا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے اعلان کردہ80ہزارکروڑروپے مالیت کے ترقیاتی پیکیج کی بدولت ریاست جموں وکشمیرمیں ترقی کی شرح میں خاطرخواہ اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ اب ریاست میں ترقی کی شرح7فیصدتک پہنچ گئی ہے جوقومی شرح ترقی سے زیادہ ہے ۔وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ جب سال2014میں موجودہ ریاستی سرکارنے اقتدارسنبھالاتوسرمایہ اورآمد ن میں کوئی توازن نہیں تھابلکہ 30ہزارکروڑروپے کی سالانہ آمدن کے مقابلے میں اخراجاتی سرمایہ صرف10ہزارکروڑروپے تھا۔انہوں نے کہاکہ اب ریاست میں آمدن اورخرچہ جاتی سرمایہ میں توازن آچکاہے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے