نواکدل میں بھیانک آتشزدگی ،نصف درجن مکانات خاکستر

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر: وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران آگ کی وارداتوں میں تشویشناک اضافے کے بیچ شہر خاص کے گنجان آبادی والے علاقے نواکدل میں دو علیحدہ علیحدہ آگ کی بھیانک وارداتوں میں5رہائشی مکانات خاکستر ہوئے ،جسکی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی ۔آگ کی ہولناک وارداتوں میں نصف درجن سے زیادہ کنبے بری طرح سے متاثر ہوئے ۔تاہم فائر اینڈ ایمر جنسی عملے کی بروقت کارروائی سے آگ پر فوری طور پر قابو پالیا گیا ۔

سٹی رپورٹر کے مطابق شہر خاص کے بلبل لانکر نواکدل میں جمعرات کی شب قریب سات بجے ایک رہائشی مکان سے اچانک آگ کے شعلے نمودار ہوئے جس نے تیزی کے ساتھ پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ کے شعلے اِس قدر بھیانک تھے کہ اس نے آس پڑوس مزید ایک اور مکان کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔سٹی رپورٹر نے مقامی لوگوں کا حوالہ دےتے ہوئے بتایا کہ آگ کی اس واردات میں 2رہائشی مکانات مکمل طور پر خاکستر ہوئے اور اِن میں موجود کئی کنبے متاثر ہوئے ۔اس آتشزدگی میں لاکھوں روپے مالیت کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی ۔

اس دوران آگ کی ایک اور ہولناک واردات میں 3رہائشی مکانات خاکستر ہوئے ۔سٹی رپورٹر کے مطابق تار ا بل نواکدل علاقے میں جمعہ کی صبح ساڑھے8بجے کے قریب ایک رہائشی مکان کی اُوپری منزل سے اچانک آگ نمودار ہوئی ۔سٹی رپورٹر کے مطابق آگ اس قدر بھیا نک تھی ،کہ اسی آنا ً فا ناً مزید تین رہائشی مکانات کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔سٹی رپورٹر کے مطابق آگ کی اس واردات میں 2مکان مکمل طور پر خاکستر ہوئے جبکہ ایک مکان کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔

آتشزدگی کی اس واردات میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک اور گھریلو سازوسامان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوا۔آگ کی اس واردات میں جن میں شہریوں کے مکان خاکستر ہوئے ،اُن میں معراج الدین ، عاشق احمد خان ،رفیق احمد خان اور گلزار احمد شامل ہے ۔

متاثرین نے بتایا کہ آگ کی اس واردات میں نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا بلکہ اُنکی زندگی کی پونجی بھی خاکستر ہوئے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے