قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقد ”ملک کی تعمیر میں اقلیتوں کی حصہ داری‘‘ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر وینکیا نائڈو نے کہا کہ آزادی سے لے کر ملک کی ترقی تک مسلمانوں کی حصہ داری ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ملک میں جاری تشدد کے پیش نظر ان کا کہنا تھا ’’ کوئی بھی مذہب تشدد اور نفرت کا سبق نہیں دیتا، لیکن کچھ لوگ اپنے مفاد اور سیاسی ایجنڈوں کو پورا کرنے کے لیے فساد کراتے ہیں، معاشرے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ’’ ہر مذہب کو صحیح طریقے سے سمجھنا چاہئے، کوئی بھی مذہب دہشت گردی کو فروغ نہیں دیتا۔ یہ دہشت گرد گروہ ہیں جو اپنے سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں‘‘۔
نائب صدرنے پڑوسی ملک کا نام لیے بغیر کہا ’’ کچھ ملک اس کو بڑھاوا دینے کے لیے مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں لیکن انہیں علم ہونا چاہیے کہ اگر آپ دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں،تو کل آپ خود اس کا شکار ہوں گے”۔
مسٹر نائیڈو نے اہم مسلم شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی اور ملک کی ترقی میں انھوں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔
انھوں نے اس فہرست میں’’ مولانا ابولکلام آزاد، ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام،ڈاکڑ ذاکر حسین، فخر الدین علی احمد، رفیع احمد قدوائی، اشفاق اللہ خان، محمد حامد انصاری سمیت متعدد شخصیات کا ذکر کیا۔

