برفانی تودے کی زد میں آنے والے5میں سے چوتھے اہلکار کی لاش برآمد

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
سرینگر شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے5میں سے چوتھے اہلکار کی لاش برآمد کرلی گئی ہے جبکہ پانچویں اہلکار کی تلاش کا کام بدھ کوبدستوردسویں روز بھی وسیع پیمانے پر جاری رہا۔ رواں ماہ کی11تاریخ کووادی کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے دوران بانڈی پورہ کے گریز علاقے میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک ایک برفانی تودہ گر آیا جس کی زد میں آنے کے بعد فوج کے3اہلکار لاپتہ ہوگئے۔یہ واقعہ نانی پوسٹ بگتور کے مقام پر پیش آیااور لاپتہ اہلکاروں کا تعلق فوج کی36آر آر سے تھا۔ تینوں اہلکار برف کی بھاری مقدار تلے دب گئے اور انہیں تلاش کرنے کےلئے اگر چہ فوری طور بچاﺅ کارروائی شروع کی گئی تاہم مسلسل اور بھاری برفباری کی وجہ سے اس کام میں رکاﺅٹیں پیدا ہوئیں۔بعد میں سونہ مرگ میں قائم فوج کے ہائی آلٹی چیوڑ وارفیئر اسکول یعنی HAWS سے وابستہ خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں کو گریز روانہ کیا گیا جنہوں نے لاپتہ اہلکاروں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی انجام دی۔دفاعی ذرائع کے مطابق پیر کو لانس نائیک ایم این پرمانک اور رائفل مین شیو سنگھ کی لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ بدھ کورائفل مین مورتھی این کی لاش ملی اور اس طرح یہاں تلاشی کارروائی مکمل ہوگئی۔کے ایم ا ین کے مطابق سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے گریز میںتیسرے لاپتہ اہلکار کی لاش برآمد ہونے کی تصدیق کی۔ادھر 11دسمبر کو ہی کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے نوگام سیکٹر میں بھی 2 فوجی اہلکار برف پر پھسلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ان اہلکاروں کی تلاش کا کام بھی بڑے پیمانے پر جاری رہا جس دوران اتوار کو ایک اہلکار کی لاش برآمد کی گئی۔دفاعی ذرائع کے مطابق دوسرے اہلکار کی تلاش اگر چہ بدھ کو مسلسل دسویں روز بھی جاری رہی تاہم اس کے زندہ ہونے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ کی11تاریخ کو ہی گریز کے تلیل علاقے میں فوج کے ساتھ کام کررہا ایک مقامی پورٹر پھسل کر لقمہ اجل بن گیا۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے