نوجوان کی ہلاکت،کپوارہ کی فضاءہنوز غمناک

کپوارہ: سرحدی ضلع کپوارہ کے ٹھنڈی پورہ کرالپورہ علاقے میں نوجوان سومو ڈرائیور آصف اقبال کی ہلاکت کے باعث فضاءہنوز سوگوار بنی ہوئی جبکہ ہلاکت خیز واقعے کے خلاف مسلسل دوسرے روز بھی ہڑتال رہی ۔ہڑتال کے نتیجے میں کپوارہ میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ حساس علاقوں میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ۔

شمالی ضلع کپوارہ میں سوموڈرائیور کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال رہی۔معلوم ہوا ہے کہ شہری ہلاکت کے خلاف ضلع کے کرالپورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جبکہ بیشتر ٹیوشن سینٹر بند رہے۔ہڑتال سے کپوارہ میں معمو لات ِزندگی متاثر ہو کر رہ گئے ہیں۔

کپوارہ میں نوجوان سومو ڈرائیور کی ہلاکت کو لیکر صورتحال غمناک بنی ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق نو جوان کے اہلخانہ کے ساتھ تعزیت پرسی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پیر کی صبح سے مہلوک نوجوان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کی غرض سے ٹھنڈی پورہ کرالپورہ کا رُخ کیا۔

آصف کی ہلاکت کے خلاف ضلع کپوارہ کے متعدد علاقوں میں اتوار کو لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا تھا جن کی بعدازاں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں ضلع پولیس سربراہ شمیر حسین سمیت قریب دو درجن پولیس اہلکار و احتجاجی زخمی ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ کپوارہ کے ٹھنڈی پورہ کرالپورہ میں 16 اور17 دسمبر کی درمیانی رات گھات لگائے بیٹھے فوجیوں نے22 سالہ آصف اقبال بٹ ولد محمد اقبال بٹ پر مبینہ طور پر فائرنگ کرکے اسے موت کی ابدی نیند سلادیا۔ تاہم فوج کا کہنا تھا محمد اقبال جنگجوو¿ں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔ ضلع انتظامیہ کپوارہ نے آصف کی ہلاکت کے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم صادر کیا ہے جبکہ پولیس نے اس حوالے سے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔

ادھراہلیان کرالپورہ جو فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے تک مہلوک ڈرائیور کو سپرد خاک کرنے سے انکار کررہے تھے، کو سیول و پولیس کے سینئر عہدیداروں نے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد تدفین کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ ٹھنڈی پورہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آصف جو کہ سومو گاڑی چلاتا ہے ، کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات قریب ساڑھے گیارہ بجے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں اسے ایک بیمار کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔ جوں ہی آصف بیمار کو اسپتال لے جانے کی غرض سے اپنی سومو گاڑی زیر نمبر JK05C-7608 لیکر اپنے گھر سے روانہ ہوا تو نذدیک میں گھات میں بیٹھے فوجیوں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

آصف کو شدید زخمی حالت میں سب ضلع اسپتال کرالپورہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم وہ سری نگر پہنچائے جانے سے قبل ہی سوپور میں دم توڑ بیٹھا۔

ریاستی پولیس نے کہا کہ واقعہ کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس اور سیول انتظامیہ سوگوار کنبہ کو ہر ضروری مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا ’ٹھنڈی پورہ کرالپورہ میں 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی رات آصف اقبال ولد محمد اقبال نامی نوجوان گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا‘۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ زخمی آصف کو سب ضلع اسپتال کرالپورہ لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر لے جانے کی صلاح دی۔ تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ طبی اور قانونی لوازمات کی تکمیل کے بعد لاش کو تدفین کے لئے ورثاءکے حوالے کردیا گیا۔ فوج کا کہناتھا کہ آصف کراس فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا ہے۔ فوجی ترجمان نے آصف کی ہلاکت کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا ’ٹھنڈی پورہ میں جنگجوو¿ں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج نے علاقہ پر نگرانی رکھنے کے لئے 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی شب کو گھاتیں لگائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کو قریب کے قریب 10 بجکر 55 منٹ پر گاو¿ں میں واقعہ ایک نالہ میں تین افراد کی مشتبہ نقل وحرکت دیکھی۔ ترجمان نے کہا ’مشتبہ افراد کو رکنے کے لئے کہا گیا لیکن انہوں نے ان سنی کردی‘۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوو¿ں نے گھات پارٹی پر فائرنگ کی جس کے بعد فوجیوں نے جوابی فائرنگ کی۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ اس دوران آصف اقبال بٹ ولد محمد اقبال بٹ ساکنہ ٹھنڈی پورہ کراس فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا۔

مزاحمتی قیادت نے اس واقعہ پر شدید برہمی کرکے اسے بہیمانہ قتل سے تعبیر کیا جبکہ ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی تھی ،کہ واقعہ کی نسبت جاری تحقیقات میں تیزی لائی جائے ۔

وادی میں اس واقعہ سے قبل شہری ہلاکتوں کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں اور اس حوالے سے ایک تاریخ رقم ہے ۔تاہم فوج وفورسز کو حاصل خصوصی اختیارات کے سبب شہری ہلاکتوں میں کسی بھی ملوث فورسز اہلکار کو سزا نہیں ملی کیو نکہ آر مڈ فورسز سپیشل پاﺅرس ایکٹ (افسپا) کے تحت فوج وفورسز جموں وکشمیرمیں کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر گولی مار سکتے ہےں اور کہیں پر بھی کسی بھی وقت تلاشی کارروائی عمل میں لا سکتی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے