”آپریشن آل آﺅٹ“ جاری رہے گا:ویس پی وید

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگرقیام امن تک جنگجوﺅں کے خلاف”آپریشن آل آﺅٹ“ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی میں معمول کے حالات بحال ہورہے ہیں اور رواں برس کے مقابلے میںسال2018میں کم چیلنج درپیش ہونگے۔ڈی جی پولیس نے ایک بار پھر نے منشیات کی اسمگلنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کو جڑ سے اکھاڑنے کےلئے عام لوگوں کا تعاون طلب کیا۔

جموں میں ایک تقریب کے حاشیے پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران جموں کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے جنگجوﺅں کے خلاف جو ”آپریشن آل آﺅٹ“ شروع کیا ہے، وہ ریاست میں مکمل قیام امن تک جاری رہے گا۔جب ان سے رواں سال کے دوران200جنگجوﺅں کی ہلاکت کی صورتحال پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا”وادی کے عوام بہت جلد امن محسوس کریں گے “۔

نہوں نے جنگجوﺅں کی ہلاکت کے بارے میں کہا”اس کامیابی کا سہرا سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کے سرجاتا ہے جنہوں نے آپریشن کے تحت سخت محنت کی ،خاص طور پر ان لوگوں نے جو اپنی جانیں گنوا بیٹھے“۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی پولیس نے کہا”میں نہیں سمجھتا کہ آنے والا سال رواں برس کی طرح چیلنج سے پُر ہوگا، اگلا سال بہتر ہوگا“۔ویشنو دیوی مندر کے بیس کیمپ کٹرہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے منصوبے کے بارے میں ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں کے بھاری رش کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں ان کا کہنا تھا”ایک کروڑ سے زیادہ عقیدتمند ہر سال یہاں آتے ہیںاور سی سی ٹی وی کمیرے نصب کرنے کا فیصلہ عقیدتمندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے کیا گیا ہے، جہاں تک عقیدتمندوں کی سلامتی کا تعلق ہے، ایسا کرنا ناگزیر ہے“۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے پولیس سربراہ نے منشیات کی اسمگلنگ پر تشویش کا اظہار کیااور کہا کہ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کےلئے پولیس کو عام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وید نے کہا کہ پولیس کےلئے صحت سے متعلق سہولیات دستیاب ہونے سے بہترکوئی اور فلاحی سرگرمی نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا”پولیس کےلئے علیحدہ اسپتال کی عمارت کی تعمیرہمارا خواب ہے ، ہمارے پاس نئی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے ایک اچھا منصوبہ ہے اور ہم اس کےلئے مالی معاملات طے کررہے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے